کانگریس کے سمپوزیم میں بائیں بازو اور جنتادل قائدین کی شرکت پر بی جے پی کا استفسار
نئی دہلی ۔ 17 نومبر ۔( سیاست ڈاٹ کام )کانگریس نے جواہر لال نہرو کی یوم پیدائش پر منعقدہ کانفرنس سے بی جے پی کو دور رکھا اوربی جے پی نے اس طرزعمل پر اپوزیشن جماعت کو تنقیدوں کا نشانہ بناتے ہوئے یہ جاننا چاہا کہ مہمانوں کی فہرست اُن افراد پر مبنی ہے جن کا کوئی سیاسی مستقبل نظر نہیں آتا ۔ یہاں تک کہ اس فہرست میں اُنھیں بھی شامل کیا گیا ہے جنھوں نے نہرو کی سیاست کو مسترد کردیا تھا ۔ کانفرنس میں بائیں بازو قائدین اور سابقہ جنتادل کے علحدہ شدہ گروپس کے ارکان کی شرکت کا حوالہ دیتے ہوئے سینئر بی جے پی لیڈر اور مرکزی وزیر ارون جیٹلی نے کہا کہ یہ دونوں گروپس نہرو کی پالیسیوں کی اُن کی زندگی میں مخالفت کرتے رہے ۔ واضح رہے کہ جنتادل رام منوہر لوہیا کے نظریات پر عمل پیرا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ رام منوہر لوہیا نے ہمیشہ ملک کے پہلے وزیراعظم نہرو کی سیاست کی نفی کی ۔ انھوں نے اپنی ساری زندگی پنڈت جی کی سیاست کو مسترد کردیا تھا۔ بائیں بازو جماعتوں نے بھی پنڈت نہرو کے خلاف آواز اُٹھائی تھی ۔ اس کے علاوہ کیرالا میں ای ایم ایس نمبودری پد کی زیرقیادت پہلی جمہوری طورپر منتخبہ کمیونسٹ حکومت کو دفعہ 356 کے تحت بیدخل کردیا تھا اور اس پر کمیونسٹ جماعتوں نے کافی ہنگامہ آرائی کی تھی ۔ انھوں نے کہاکہ ایسے لوگ جنھوں نے پنڈت جی کی سیاست کو اُن کی ساری زندگی مسترد کرتے رہے ، آج وہ اس سمپوزیم کا حصہ تھے ۔ انھوں نے کانگریس پر تنقید کرتے ہوئے یہ جاننا چاہا کہ کیا پارٹی کے اُن کے قائدین کے اثر و رسوخ سے یہ مہمانوں کی فہرست تیار کی گئی جن کا سیاسی مستقل تاریک ہوتا جارہا ہے ۔ انھوں نے کہاکہ اس سمپوزیم میں وہ لوگ بھی شریک تھے جنھوں نے نہرو کی سیاست کو مسترد کردیا تھا اور وہ بھی تھے جو ہمیشہ نظریاتی طورپر نہرو سے اختلاف کرتے رہے ۔ اس سمپوزیم میں صدر کانگریس سونیا گاندھی نے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے بی جے پی پر شدید تنقید کی اور کہا کہ نہرو کے نظریات کو غلط ترجمانی اور غلط نمائندگی کے بنا خطرات لاحق ہیں۔ ارون جیٹلی نے وزیراعظم نریندر مودی کے بیرونی دورہ میں عوام کی کثیرتعداد کے بارے میں سلمان خورشید کے تبصرے پر بھی تنقید کی ۔ انھوں نے کہا کہ سلمان خورشید کی مجبوری کو سمجھا جاسکتا ہے کیونکہ سڈنی میں مودی کے پروگرام میں اتنی زیادہ تعداد شریک ہورہی ہے جتنی یہاں ہندوستان میں اُن کے لیڈر کے پروگرام میں شریک نہیں ہوتی ۔ انھوں نے کہا کہ اگر یو پی اے قائدین اپنے دور حکومت میں ہندوستانی تارکین وطن کے بارے میں غوروخوص کرتے یا اُن کے بارے میں فکر کرتے تو انھیں اندازہ ہوسکتا تھا کہ ہندوستانی لیڈر کس قدر مقبولیت کا حامل ہوگا ۔ سابق وزیر خارجہ سلمان خورشید نے تارکین وطن کی کثیرتعداد کے بارے میں شبہات ظاہر کئے تھے ۔ انھوں نے کہا تھا کہ وہ خود میانمار کے دارالحکومت نائی پائی تا دو مرتبہ جاچکے ہیں اور انھوں نے دیکھا کہ وہاں سڑکیں سنسان ہوتی ہیں ۔ آخر ایسے مقام پر اتنے زیادہ لوگ مودی کو سننے کیلئے کس طرح جمع ہوئے۔ انھوں نے کہا تھا کہ مودی یہاں سے عوام کی کثیرتعداد کو محض نعرے بازی کیلئے اپنے ساتھ لے گئے ہیں ۔