نہرو زوالوجیکل پارک میں نئے بسوں کے حصول تک سفاری پارک بند

دس یوم قبل موجود بس اچانک فیل ، سیاح ببر کے پہونچ جانے پر خوفزدہ ، آئندہ ماہ پارک کی بحالی ممکن
حیدرآباد 27 نومبر (سیاست نیوز) نہرو زوالوجیکل پارک حیدرآباد میں سفاری پارک اس وقت تک شروع نہیں ہوسکتا جب تک سفاری پارک کے لئے دو نئی بسوں کا انتظام نہ کیا جائے۔ گزشتہ تقریباً 10 دن سے نہرو زوالوجیکل پارک میں جانوروں کا مشاہدہ کرنے کے لئے پہونچنے والے سیاحوں کو سفاری پارک کی تفریح سے استفادہ کا موقع میسر نہیں آرہا ہے۔ چونکہ 16 نومبر کو سفاری پارک میں پیش آئے واقعہ کے بعد سے سفارک پارک زو انتظامیہ کی جانب سے سیاحوں کے لئے بند کردیا گیا ہے۔ 16 نومبر کو نہرو زوالوجیکل پارک میں واقع سفاری پارک میں بغرض تفریح لیجانے والی بس اچانک خراب ہوگئی تھی جس کے سبب بس میں موجود سیاح خوف و دہشت کا شکار ہوگئے تھے۔ کافی دیر بعد دوسری بس کے انتظام کے ذریعہ مسافرین کو سفاری پارک سے باہر لایا گیا جب تک بس سفاری پارک میں تھی اس دوران ببر نے بھی بس کے قریب پہونچ کر مسافرین کو خوفزدہ کیا تھا، اس واقعہ کے بعد نہرو زوالوجیکل پارک انتظامیہ نے سفاری پارک کو بند کرنے کا فیصلہ کرلیا اور نئے بسوں کے حصول تک سفاری پارک بند رکھا جائے گا۔ سفاری پارک کے باب الداخلہ پر زو انتظامیہ کی جانب سے باضابطہ نوٹس آویزاں کردی گئی ہے کہ سفاری پارک ناگزیر وجوہات کی بناء پر بند رکھا گیا ہے۔ ذرائع سے موصولہ اطلاع کے بموجب نہرو زوالوجیکل پارک انتظامیہ کی جانب سے محکمہ جنگلات کے متعلقہ شعبہ کو اس بات سے واقف کروادیا گیا ہے کہ حیدرآباد میں واقع زو پارک کے سفاری کو بسوں میں خرابی کے باعث بند رکھا گیا ہے۔ فی الحال نہرو زوالوجیکل پارک میں دو بسیں سفاری پارک کی تفریح کے لئے رکھی گئی ہیں جن میں تکنیکی خرابیوں کے سبب انھیں ناقابل استعمال قرار دے دیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ جب تک محکمہ جنگلات کی جانب سے دو نئی بسوں کی فراہمی کو یقینی نہیں بنایا جاتا ، اس وقت تک نہرو زوالوجیکل پارک پہونچنے والے سیاحوں کو سفاری پارک کی تفریح سے محروم رہنا پڑے گا۔ محکمہ جنگلات کے عہدیداروں کے بموجب سفاری پارک کے دوبارہ آغاز کے لئے کم از کم دو بسوں کی فراہمی یقینی بنانے کے اقدامات کئے جارہے ہیں، اس سلسلہ میں انتظامی منظوری کا انتظار کیا جارہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ماہ ڈسمبر کے اواخر سے قبل سفاری پارک کی تفریح کے دوبارہ آغاز کو یقینی بنانے پر توجہ مرکوز کی جارہی ہے۔