معاوضہ اور تحقیقات سے کیا قیمتی جانیں واپس آئیں گی ؟ کشن باغ میں عوام کے سوالات
حیدرآباد ۔ 15 ۔ مئی : ملک میں جہاں کہیں فرقہ وارانہ فسادات ہوتے ہیں ان میں مارے جانے والے تباہ و برباد ، گرفتار اور زخمی ہونے والے تمام کے تمام مسلمان ہی ہوتے ہیں ۔ عوام میں عام تاثر یہی پایا جاتا ہے کہ بیشتر واقعات میں پولیس جانبدارانہ کارروائیاں کرتی ہیں جس کے باعث مظلوم مسلمان متاثر ہوتے ہیں ۔ کشن باغ میں کل اشرار نے جس طرح مسلم اقلیت کے مکانوں پر سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت حملے کئے ۔ مسلم نوجوانوں کو نشانہ بنایا ۔ گھروں کو لوٹا گیا اور گھروں کے سامنے ٹہرائی گئیں گاڑیوں کو نذر آتش کیا گیا ۔ اس دوران پولیس اور بی ایس ایف نے کوئی کارروائی نہیں کی ۔ عوام میں اس بات پر کافی غم و غصہ پایا جاتا ہے کہ پولیس نے اشرار پر ایک لاٹھی تک نہیں چلائی جب کہ پہلے ہی سے ظلم کا شکار نہتے مسلمانوں کے سینوں اور پیٹوں پر گولیاں چلادیں ۔ کشن باغ عرش محل کے واقعہ کے بارے میں مشرق وسطیٰ کے میڈیا نے بھی رپورٹس شائع کیے ہیں جس میں اشرار کی بربریت اور پولیس کے تساہل اور مجرمانہ غفلت کا حوالہ دیا گیا ہے ۔ خود حیدرآباد سٹی پولیس کے عہدیدار حیران ہیں کہ آخر نہتے لوگوں پر فائرنگ کی بی ایس ایف کو کسی نے اجازت دی ؟ اس کا مقصد کیا تھا ؟ کہیں پرامن شہر میں بے چینی و گڑبڑ پیدا کرنے کی کسی سفارش کا تو یہ حصہ نہیں تھا ؟ شہر میں یہ بھی سوالات اٹھائے جارہے ہیں کہ مسلح پولیس اور بی ایس ایف ( بارڈر سیکوریٹی فورس ) کی موجودگی میں اشرار ہتھیاروں کے ساتھ بلا خوف و خطر آزادانہ کیسے گھوم رہے تھے ؟ انصاف کا تقاضہ تو یہ تھا کہ بی ایس ایف کی رائفلوں کا رخ اشرار کی جانب سے ہونا چاہئے تھا ۔ کشن باغ اور اطراف و اکناف کی عوام کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر پولیس اور بی ایس ایف اشرار پر کنٹرول کرلیتے اور پیشہ وارانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے تو علاقہ میں اتنی بڑی تباہی ہرگز نہیں ہوتی ۔ بعض مقامی افراد کے مطابق ایسا لگتا ہے کہ شرپسندوں کو دیگر مقامات سے لایا گیا تھا ۔ اس سوال پر کہ بی ایس ایف کو فائرنگ کا کس نے حکم دیا ؟ سرکاری سطح پر حکام خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں ۔
بعض میڈیا رپورٹس میں ایک اعلیٰ پولیس عہدہ دار کے حوالے سے بتایا گیا کہ ابتداء میں بی ایس ایف نے ہوا میں فائرنگ کی ۔ اور پھر بی ایس ایف جوانوں نے اپنی رائفلوں کا رخ ہجوم کے طرف کرتے ہوئے گولیاں چلادیں ۔ حد تو یہ ہے کہ سائبر آباد پولیس کا کوئی عہدہ دار بھی بی ایس ایف کو فائرنگ کی ہدایت دینے والے عہدہ دار کا نام بتانے سے گریز کررہاہے ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ تلنگانہ تحریک میں کئی مرتبہ پرتشدد واقعات پیش آئے پولیس نے فائرنگ نہیں کی ۔ اسمبلی کی عمارت پر مادیگا پوراٹا سمیتی کے کارکن چڑھ گئے ۔ پولیس نے فائرنگ سے گریز کیا اور ایک ایسے وقت جب کہ مسلم اقلیت ظلم کا شکار ہورہی تھی بی ایس ایف نے ظالموں پر فائرنگ کرنے انہیں وہاں سے منتشر کرنے کی بجائے نہتے مسلمانوں پر فائرنگ کردی ۔ دوسری طرف ریاستی گورنر نے اس واقعہ کی مجسٹریٹ کے ذریعہ تحقیقات کا حکم دے رہا ہے ۔ اسی طرح شہیدوں کے خاندانوں کو فی کس 6 لاکھ روپئے اور زخمیوں کو فی کس 50 ہزار روپئے معاوضہ دینے کا اعلان کیا ہے جب کہ جن گھروں کو لوٹا گیا جن شہریوں کی گاڑیوں بشمول آٹوز کو نذر آتش کیا گیا انہیں معاوضہ کی ادائیگی کے بارے میں کوئی اعلان سامنے نہیں آیا ۔
واقعہ کے فوری بعد سیاسی قائدین سامنے آئے ، معاوضہ اور عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا اور بھر بڑی خاموشی کے ساتھ تینوں شہیدوں محمد فرید ، محمد شجاع الدین خطیب اور محمد واجد علی کی نماز جنازہ ادا کی گئی اور تدفین بھی عمل میں آئی ۔ ریاستی گورنر کی جانب سے معاوضہ کی ادائیگی کا کچھ لوگ خیر مقدم کررہے ہیں لیکن مہلوکین کے غمزدہ رشتہ داروں کا سوال ہے کہ حکومت نے 6 لاکھ روپئے معاوضہ کی ادائیگی کا اعلان کرتے ہوئے اسی طرح شہیدوں کا مذاق اڑایا ہے جس طرح بی ایس ایف نے اشرار کے خلاف کارروائی کی بجائے نہتے اور ظلم و بربریت کا شکار مسلمانوں پر فائرنگ کرتے ہوئے بی ایس ایف کی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور کارکردگی پر ایک دھبہ لگادیا ہے ۔ کشن باغ کے عوام اب یہ بھی سوال کرنے لگے ہیں کہ کیا حکام 6 لاکھ روپئے کے ذریعہ تین ماہ کے دولہے محمد فرید کی زندگی واپس لے آئیں گے ؟ کیا اس حقیر معاوضہ سے ان کی حاملہ بیوی کی خوشیاں واپس لائی جاسکتی ہیں ؟ کیا اس معاوضہ کے ذریعہ محمد فرید کی بیوی کے پیٹ میں پل رہے بچے کو اپنے باپ کا پیار دلایا جاسکے گا ؟ اسی طرح محمد شجاع الدین خطیب اور محمد واجد علی کے غمزدہ رشتہ دار بھی یہی سوال کررہے ہیں کہ اس معاوضہ سے حکومت ان کے چہیتوں ان کے سرپرستوں کو واپس لائے گی ۔ عوام کا یہی اصرار ہے کہ مہلوکین کے ورثا کو 10 لاکھ روپئے معاوضہ کے ساتھ ساتھ سرکاری ملازمتیں اور مکانات فراہم کئے جانے چاہئے اور سب سے بڑھ کر بی ایس ایف کے ان جوانوں کو عبرت ناک سزائیں دی جانی چاہئے جنہوں نے نہتے مسلمانوں کے سینوں پر گولیاں چلائیں ۔ مقامی عوام کے خیال میں خاطیوں کو کیفر کردار تک پہنچانا ضروری ہے ۔ ساتھ ہی اپنے فرائض میں غفلت برتنے والے پولیس عہدیداروں کا مواخذہ بھی ضروری ہے ۔ تب ہی حقیقت میں انصاف کا تقاضہ پورا ہوگا ۔ ورنہ جب مظلومین و محروم اٹھ کھڑے ہوتے ہیں تو ایک انقلاب برپا ہوتا ہے ۔۔