نوٹ بندی کے زخم وقت کے ساتھ مزید گہرے

ملک میںمعاشی ناعاقبت اندیشانہ اقدام کے بھیانک نتائج سامنے آرہے ہیں : منموہن سنگھ
نئی دہلی ۔ 8نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) سابق وزیر وزیراعظم منموہن سنگھ نے ملک میں نوٹ بندی کے دوسرے سال حکومت کے فیصلہ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہاکہ نوٹ بندی کے اس عمل سے ہونے والے نقصانات اور لگنے والے زخم وقت سے مزید گہرے ہوتے جارہے ہیں ۔ ان زخموں کو مندمل کرنے کی بھی کوششیں نہیں کی گئی ۔ حکومت کی اس حرکت سے ہونے والے نقصانات اور تکالیف وقت کے ساتھ مزید نمایاں ہوتے جارہے ہیں ۔ معاشی ناعاقبت اندیشانہ اقدام کو یہ ملک ہرگز فراموش نہیں کرسکتا ۔ کانگریس کے سینئر لیڈر نے حکومت سے کہا کہ وہ مزید اپنی ناکام پالیسیوں کا پٹارہ نہ کھولیں ‘ حکومت کے مختصر مدتی اقدامات سے مزید نقصانات ہورہے ہیں اور اس سے معیشت میں مزید غیر یقینی پیدا ہوسکتی ہے ۔ منموہن سنگھ نے نوٹ بندی کو ناقص پالیسی اور ناقص سوچ کا مظہر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس فیصلہ سے ہندوستانی معیشت پر جو برے اثرات مرتب ہوئے ہیں اور اس سے ہمارا سماج جن مسائل سے دوچار ہوا ہے یہ اب ہر ایک کیلئے ایک تلخ ثبوت بن چکا ہے ۔ 8نومبر 2016ء کو وزیراعظم نریندر مودی نے 1000اور 500روپئے کی کرنسی پر پابندی کااعلان کردیا تھا اور یہ اعلان استقدامی اثر کے ساتھ کیا گیا ۔ منموہن سنگھ نے کہاکہ نوٹ بندی نے ہر فرد واحد کومتاثر کیا ہے۔ عمر ‘ جنس ‘ مذہب ‘ پیشہ اور رنگ و نسل کا امتیاز کئے بغیر نوٹ بندی کے فیصلہ سے ہر شخص متاثر ہوا ہے ۔ اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ وقت سب سے بڑا مرہم ہے لیکن نوٹ بندی کے زخموں کو اس وقت کا مرہم بھی کام نہیں کرسکا۔ یہ بڑی بدبختی کی بات ہے کہ نوٹ بندی کے خوف اور زخموں کا تسلسل ہنوز جاری ہے ۔ ملک کی مجموعی پیداوار گھٹ چکی ہے ۔ نوٹ بندی کا ڈراونا خواب معیشت کا تعاقب کررہا ہے ‘ چھوٹے اور متوسط تجارت کو ملک کی معیشت کیلئے ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے لیکن نوٹ بندی سے یہ تجارت بدترین طور پرمتاثر ہوئی ہے ۔ اس کا راست اثر روزگار پر ہوا ہے اور ملک کی معیشت اپنی بقاء کیلئے مسلسل ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے ۔ تاکہ ہمارے نوجوانوںکیلئے خاطرخواہ روزگار فراہم کرسکے ۔ سابق وزیر منموہن سنگھ مزید کہا کہ ملک کی مالیتی مارکٹوں میں کئی بے قاعدگیاں پیدا ہوئی ہیں ۔ نوٹ بندی پر اپنی شدید تنقید کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کے نقصانات کا اندازہ کرلیا جانا چاہیئے لیکن حکومت اب تک یہ اندازہ کرنے میںناکام ہے ۔روپئے کی قدر میں مسلسل گراوٹ اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میںا ضافہ ‘ مائیکرو اکنامک میں انحطاط نے معیشت کو شدید دھکا لگانا شروع کردیا ہے ۔آج کا دن ہمیں معاشی ناعاقبت اندیشانہ اقدام کی تلخ یاد دلاتا ہے ۔ مودی حکومت کے اس فیصلہ سے طویل مدتی طور پر قوم کو نقصانات ہوں گے ۔ حکومت کو چاہیئے کہ وہ جب بھی معاشی پالیسی بنائیں تو اس پر محتاط قدم اٹھائے ۔سوچ سمجھ کر ہی فیصلہ کیا جانا چاہیئے ۔ کانگریس نے نوٹ بندی کی دوسری برسی کے موقع پر کل جمعہ کو ملک گیر احتجاج کرنے کا فیصلہ کیاہے ۔