نوٹ بندی اور جی ایس ٹی نے معیشت تباہ کردی : راہول

یو پی اے حکومت نے کسانوں کے قرضے معاف کئے تھے ، مودی حکومت نے چند صنعتکار دوستوں کو فائدہ پہنچایا

دھول پور ؍ نئی دہلی ۔ 9 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی کے خلاف اپنی تنقیدوں کو انتخابات کا سامنا کرنے والے راجستھان تک پہنچاتے ہوئے صدر کانگریس راہول گاندھی نے آج کہاکہ نوٹ بندی اور گڈس اینڈ سرویسیس ٹیکس جسے انہوں نے گبر سنگھ ٹیکس بتایا، ہندوستان کی معیشت کو تباہ کرچکے ہیں۔ دھول پور کے مانیا علاقہ میں ریالی سے خطاب کرتے ہوئے راہول گاندھی نے کہا کہ وزیراعظم نے انتخابات کے دوران اعلان کیا تھا کہ وہ چوکیدار بننا چاہتے ہیں لیکن کبھی وضاحت نہیں کی کہ انہوں نے کس کی چوکیداری کی ہے۔ صدر کانگریس نے الزام عائد کیا کہ انہوں نے کسانوں کے بجائے ملک کے 15 تا 20 صنعتکاروں کو فائدہ پہنچایا ہے۔ راہول کے مطابق سابقہ یو پی اے حکومت جس کی قیادت ان کی پارٹی نے کی اس نے 70 ہزار کروڑ روپئے مالیت کے کسان قرض معاف کردیئے تھے لیکن موجودہ حکومت نے 3.5 لاکھ کروڑ روپئے کے خراب قرضوں کو حذف کردیا ہے اور وزیراعظم نے کسانوں کی ایک روپیہ تک معاف کرتے ہوئے مدد نہیں کی ہے۔ راہول جو ریاست کے دو روزہ دورہ پر ہیں، انہوں نے کئی صنعتکاروں بشمول نیرو مودی، میہول چوکسی، للت مودی اور انیل امبانی کے نام لئے اور کہا کہ پی ایم نے انہیں فائدہ پہنچایا لیکن کسانوں اور نوجوانوں پر توجہ نہیں دی۔ راہول نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے نوٹ بندی اور جی ایس ٹی جیسے فیصلوں کے ذریعہ ملک کی معیشت تباہ کردی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی نے رافیل معاملت میں اپنے صنعتکار دوست کو فائدہ پہنچایا اور جب انہوں نے پارلیمنٹ میں یہ معاملہ اٹھایا تو ایک لفظ تک نہیں کہا۔ صدر کانگریس نے کہا کہ مرکز اور ریاستی حکومتیں عوام، چھوٹے پیمانہ کے کاروبار، کسانوں، خواتین اور نوجوانوں کے خلاف کام کررہے ہیں۔ سابقہ یو پی اے حکومت نے کئی اسکیمات اور پروگرام غریبوں کیلئے متعارف کرائے ہیں جن میں ایم جی این آر ای جی اے شامل ہیں۔ علاوہ ازیں راجستھان میں اشوک گہلوٹ کی سابقہ حکومت نے مفت ادویات کی اسکیمات لائیں لیکن بی جے پی حکومتوں نے انہیں کمزور کردیا اور عوام کے خلاف کام کیا ہے۔ کانگریس سربراہ جو مشرقی راجستھان میں 150 کیلو میٹر کا روڈ شو منعقد کررہے ہیں وہ چہارشنبہ کو بیکانیر جائیں گے ۔راجستھان میں انتخابات 7 ڈسمبر کو منعقد ہونے والے ہیں۔