۔10 برسوں میں سب سے زیادہ 2017-18 ء میں ہندوستانی کمپنیوں کو 1.80 لاکھ کروڑ کا نقصان
نئی دہلی ۔ 19 جون ۔( سیاست ڈاٹ کام ) مودی حکومت کے دوبڑے اقدامات نوٹ بندی اور جی ایس ٹی رہے ہیں ۔ ان دو بڑے اقدام سے سال 2017-18 ء میں معاشی طورپر ہندوستان کے لئے اُتھل پتھل کا سال رہاہے ۔ لیکن اب جو اعداد و شمار سامنے آئیں وہ ثابت کرتے ہیں کہ ان اقدامات نے ہندوستانی معیشت کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے ۔ بزنس اسٹینڈرڈ میں شائع شدہ ایک خبر کے مطابق سال 2017-18 ء میں ہندوستانی کمپنیوں کو لاکھوں کروڑ روپئے کانقصان ہوا ہے ۔ 344 کمپنیوں کو 1.80 لاکھ کروڑ کا نقصان ہوا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی میں یہ ہندوستانی کمپنیوں کو ہونے والا یہ سب سے بڑا نقصان ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ایسا نقصان اس وقت ہوا جب دنیا کا دوسرا سب سے بڑا اقتصادی بحران 2018 ء میں آیا تھا ۔ مودی حکومت اقتدار میں آنے کے بعد سے ہندوستانی کمپنیوں کا نقصان بڑھتا جارہا ہے ۔ رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پچھلے پانچ سالوں میں ہندوستانی کمپنیوں کو 4.85 لاکھ کروڑ کا نقصان ہوا ہے ۔ اس میں صرف گزشتہ تین سالوں میں 76 فیصد نقصان ہوا ۔ یعنی گزشتہ تین سالوں میں کمپنیوں کو تقریباً 3.68 لاکھ کروڑ کا نقصان ہوا ہے ۔ دراصل ، جب سے مودی حکومت اقتدار میں آئی ہے تب سے ان کی اقتصادی پالیسوں پر سوالات کھڑے کئے جارہے ہیں۔ نوٹ بندی اور جی ایس ٹی مرکزی حکومت کے دو ایسے بڑے اقدامات تھے جس پر سب سے زیادہ سوالات کھڑے کئے گئے ۔ حکومت نے اپنی رپورٹ میں خود اعتراف کیا ہے کہ نوٹ بندی کے باعث ، لاکھوں افراد بیروزگار ہوگئے اور ہزاروں صنعتیں بند ہوگئیں۔ جی ایس ٹی کو جلد بازی میں نافذ کرنے کا نتیجہ بھی یہی نکلا اور ملک کی صنعتوں کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑا ۔ جی ایس ٹی کو نہ سمجھ پانے کی وجہ سے صنعتوں اور کمپنیوں کو بڑا نقصان ہوا ہے ۔ حال ہی میں تملناڈو حکومت نے قانون ساز اسمبلی میں ایک رپورٹ پیش کی ہے کہ سال 2017-18 ء میں ریاست میں 50,000 چھوٹی بڑی صنعت بند ہوگئیں۔