نوٹ بندی ، جی ایس ٹی ، دفاع کی خریدیوں کی سی اے جی آڈٹ پر زور

اکاؤنٹنٹس جنرل کانفرنس سے ملکارجن کھرگے کا خطاب
نئی دہلی۔ 10 اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) پی اے سی چیرمین اور کانگریس قائد ملکارجن کھرگے نے آج کہا کہ سی اے جی کو نوٹ بندی، جی ایس ٹی، جس کی وجہ عوام کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور دفاعی خریدیوں جیسے فیصلوں کیلئے حکومت کو جوابدہ ٹھہرانے میں پس و پیش نہیں کرنا چاہئے۔ انہوں نے کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل آف انڈیا (CAG) کی جانب سے عوامی خانگی شراکت (پی پی پی) پراجیکٹس کی آڈٹ کروانے پر بھی زور دیا۔ یہاں 29 ویں اکاؤنٹنٹس جنرل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کھرگے نے آڈیٹر کیاگ کو وسیع تر آزادی دینے کی حمایت کی تاکہ وہ بڑی ذمہ داری کے ساتھ اس کے فرائض انجام دے سکے۔ پبلک فائنانس کے ایک نگران کی حیثیت سے کیاگ کا یہ فرض ہے کہ تمام ریوینیو بقایاجات کی جانچ اور رپورٹ کرے اور ایک محافظ کے طور پر بھی کام کرے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ حکومت کا پیسہ پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر خرچ نہ ہو۔ پارلیمنٹ کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے چیرمین نے کہا کہ ’’عوام کو حیرت نہیں کرنا ہوگا کیونکہ دستوری اتھاریٹیز حکومت کو سنگین مالی مشکلات کے باعث فیصلوں کیلئے جوابدہ بنانے میں ناکام ہورہے ہیں جیسے نوٹ بندی، جی ایس ٹی، دفاع سے متعلق خریداری‘‘۔ اپوزیشن کانگریس نے 58,000 کروڑ روپئے سے زائد رافیل معاملت پر سوالات اُٹھائے ہیں اور اس کی جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی کی جانب سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی اے جی کی جانب سے آؤٹ کم پر مبنی آڈیٹنگ حکومت کو جوابدہ بنائے گی۔ نومبر 2016ء میں بڑے کرنسی نوٹوں کے چلن کو بند کرنے کے فیصلے کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے حکومت پر نوٹ بندی کے مقصد کو تبدیل کرنے کا الزام عائد کیا۔ کھرگے نے کہا کہ جب تک حکومت کو جب وہ اس کی اسکیمات شروع کرنے، اس کے نتائج کے بارے میں بتانے کیلئے مجبور نہیں کیا جانا کوئی بھی اسے جوابدہ نہیں بنا پائے گا۔ ہم نے دیکھا ہے کہ حکومت ناکامیوں پر کس طرح مقاصد کو تبدیل کرتی ہے۔ مثال کے طور پر نوٹ بندی کے دوران حکومت نے اس اسکیم کے مقصد کو بدلتے رہی۔ یہ کہتے ہوئے کہ ایک سال میں سی اے جی کی جانب سے 100 سے زائد رپورٹس پیش کی جاتی ہیں۔ کھرگے نے کہا کہ ان میں زیادہ تر کی بہت کم تشہیر ہوتی ہے جب تک اس رپورٹ میں سیاسی مفاد ہوتا ہے۔ کھرگے نے کہا کہ بعض لوگ سی اے جی کے تجزیہ کو فیصلہ سازی میں رکاوٹ کے طور پر دیکھتے ہیں لیکن اس سے آفیشیل آڈیٹر کو حکومت کو جوابدہ ٹھہرانے سے اجتناب نہیں کرنا چاہئے۔ کانگریس قائد نے کہا کہ پی اے سی نے ہمیشہ ہی پی پی پی پراجیکٹس کی سی اے جی کی جانب سے آڈٹ کی حمایت کی ہے کیونکہ اس میں عوام کا پیسہ ہوتا ہے۔
چرم کے کارخانہ میں آتشزدگی، 2 زخمی
کولکتہ ۔10 اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) 2 افراد اس وقت زخمی ہوگئے جبکہ تین منزلہ عمارت میں جس میں دباغت کا کارخانہ (ٹینری) قائم تھا، آگ بھڑک اُٹھی ۔ ایک زخمی کی حالت نازک ہے۔