نومبر 2013ء کے بعد آج مکمل سورج گہن

جزائر فارو۔ 19 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) شمالی بحر اوقیانوس کے چند علاقوں اور جزائر فارو کے عوام دن کے وقت تاریک آسمان کا نظارہ کرسکیں گے، اگر موسم خوشگوار رہے تو آن لائن سلو کمیونٹی رصد گاہ اس منظر کو عالمگیر سطح پر دکھائے گی۔ ڈھائی گھنٹہ طویل سورج گہن 20 مارچ کو 4:30 بجے شب سے دیکھا جاسکے گا۔ مکمل سورج گہن اُس وقت واقع ہوتا ہے جب چاند، سورج اور کرۂ ارض کے درمیان سے گذرتا ہے۔ یورپ، شمالی آفریقہ اور شمالی ایشیا کے عوام 99% سورج کو چاند کے سایے میں چھپتے ہوئے دیکھ سکیں گے۔ فلکیات کے کالم نگار جو راؤ نے کہا کہ یہ منظر آن لائن بھی دیکھا جاسکے گا۔ ریڈنگ یونیورسٹی کے ماہرین فلکیات نے عوام سے خواہش کی ہے کہ یہ 5 منٹ بعد صورتِ حال کی تفصیلات درج کرتے رہیں۔ 1999ء میں سورج گہن کے دوران ہوا کی سمت تبدیل ہوگئی تھی۔ محققین کے بموجب ہوا کے درجہ حرارت میں 3 درجہ سیلسیس کمی آگئی تھی جس کی وجہ سے اس کا رُخ بدل گیا تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مکمل سورج گہن کے اثرات کرۂ ہوائی پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ سائنس داں کل کے سورج گہن کے اثرات بھی ریکارڈ کرنا چاہتے ہیں، کیونکہ آئندہ بڑے پیمانے کا گہن اگست 2026ء تک نہیں دیکھا جاسکے گا۔ محققین کو سورج کے بادلوں اور ہوا پر اثرات کا جائزہ لینے کا نادر موقع حاصل ہوگا۔ ہواؤں کا رُخ بدل سکتا ہے اور سورج گہن کے دوران ان کی رفتار میں بھی تبدیلی آسکتی ہے۔ 1999ء میں کارن ویل (برطانیہ) میں مکمل سورج گہن دیکھا گیا تھا اور اس موقع پر ہواؤں میں بھی پراسرار تبدیلیاں واقع ہوئی تھیں۔ حالانکہ چاند ، سورج سے جسامت میں بہت چھوٹا ہے ، لیکن طویل فاصلے کی وجہ سے مکمل سورج گہن کے دوران سورج کو چاند اپنے سایہ میں چھپا لیتا ہے، جبکہ چاند ، کرہ ٔ ارض اور سورج کے درمیان سے گذرتا ہے۔