نئی دہلی ۔/15 اپریل (سیاست ڈاٹ کام ) ملک کے ذہین نوجوانوں کو بہادری کے ساتھ چیالنجوں کا سامنا کرنا چاہئیے اور ان کے حل تلاش کرنا چاہئیے تاکہ ہندوستان ترقی کرسکے ۔ صدرجمہوریہ پرنب مکرجی نے راشٹرپتی بھون میں ان ریسیڈنس پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے ملک کے نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ وہ پورے جوش کے ساتھ درپیش چیالنجوں کا سامنا کریں ۔
انسداد تبدیلی مذہب مرکز کو قانون سازی کا اختیار نہیں
نئی دہلی ۔ 15 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) نریندر مودی کی زیرقیادت مرکزی حکومت کوئی مخالف تبدیلی مذہب قانون وضع کرنے کے قابل نہیں ہوگی کیونکہ یہ مسئلہ خالصتاً ریاستی حکومتوں کے دائرہ کار کے تحت ہے اور اس معاملہ میں مرکز کا کوئی اختیار نہیں رہے گا۔ وزارت داخلہ کو وزارت قانون کی طرف سے مطلع کیا گیا ہیکہ انسداد تبدیلی مذہب کا مسئلہ ’خالصتاً کا اختیار ہے‘ اور اس ضمن میں قانون وضع کرنے کے معاملہ میں مرکزی حکومت کا کوئی اختیار نہیں رہے گا۔ ایسا کوئی بھی اقدام قانونی طور پر قابل قبول نہیں ہوگا اور وہ دستور کی بنیاد کے مغائر بھی ہوسکتا ہے۔ سرکاری ذرائع کے بموجب وزارت قانون کا یہ نظریہ اس وقت منظرعام پر آیا جب وزارت داخلہ نے سنگھ پریوار میں شامل چند تنظیموں کی طرف سے کئے گئے اس مطالبہ پر وضاحت طلب کی تھی جس مطالبہ کو بی جے پی کے چند مرکزی وزراء کی تائید بھی حاصل تھی۔ سنگھ پریوار میں شامل بعض زعفرانی تنظیموں کی جانب سے جبری مذہبی تبدیلی پر پیدا شدہ تنازعہ کے پیش نظر بی جے پی قائدین نے یہ تجویز پیش کی تھی۔