مضر صحت کے انتباہ کے باوجود پابندی اور جرمانے کے اقدامات بے فیض
حیدرآباد /16 اپریل ( سیاست نیوز ) سگریٹ نوشی نوجوان نسل میں بڑھتا ہوا ایک خطرناک رحجان ہے جو نہ صرف عادت بلکہ مجبوری بنتا جارہا ہے ۔ ایک طرف انسانی صحت اور دوسری طرف آمدنی دونوں نقصان کا سبب بن رہے ہیں ۔ حالانیہ سگریٹ نوشی کو کم کرنے کیلئے سرکاری طور پر سخت قوانین لاگو کئے جارہے ہیں تاہم ان قوانین کی عمل آوری میں سرکاری محکموں کی غفلت و لاپرواہی رحجان میں اضافہ کا سبب بن رہی ہے ۔ برسر عام سگریٹ نوشی پر پابندی اور جرمانے جیسے اقدامات بھی بے فیض ثابت ہو رہے ہیں اور نہ ہی مہنگائی کچھ اثرات دکھا رہی ہے ۔ شہر حیدرآباد کی نوجوان نسل آج کل اس لعنت میں کافی حد تک مبتلا ہوچکی ہے ۔ جونئیر و ڈگری کالجس کے طلبہ کے علاوہ پوسٹ میٹرک سطح کے طلبہ بھی ہمہ اقسام کی سگریٹ کا شوق کر رہے ہیں جبکہ اس لعنت سے ہنرمند و پیشہ ور مزدور طبقہ بھی محفوظ نہیں ہے بلکہ اس لعنت کو فیشن کی طرح اپنا رہا ہے ۔ حیدرآباد و سائبرآباد میں ایسی ہزاروں پان کی دوکانیں پائی جاتی ہیں جہاں سگریٹ اور تمباکو اشیاء دستیاب ہیں ایک طرف انسانی صحت اور دوسری طرف آمدنی ہر طرح سے سگریٹ نقصاندہ ثابت ہو رہا ہے ۔ ایک رپورٹ پر دانشور کی رائے کے مطابق چھوٹی کم قیمت کی فلٹر سگریٹ استعمال کرنے والا شہری سالانہ تقریباً 32 ہزار روپئے کی سگریٹ کو جلا رہا ہے اور اس سے اسکے صحت پر پڑھنے والے مضر اثرات تو اور بھی زیادہ نقصاندہ ہیں ۔ اس طرح مہنگی سگریٹ کا استعمال کرنے والے شہری کا خرچہ دوگنا ہوجاتا ہے ۔ ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں 110 ملین ہندوستانی روزانہ سگریٹ پر 968 کروڑ روپئے خرچ کرتے ہیں اور ان میں چین اسموکرس کے استعمال کا تجزیہ تو تعجب خیز ہے بتایا گیا ہے ۔ جو اپنی عمر کے حصہ میں 3 تا 4 کروڑ کے سگریٹ کو استعمال کر رہے ہیں ۔ مہنگائی کے اس دور میں جبکہ آمدنی کے وسائل بھی کم اور بے روزگاری بڑھتی جارہی ہے ۔ امیر اور امیر غریب اور غریب ہوتا جارہا ہے ۔ اوسط درجہ کی عوام کیلئے ہی اپنے خوابوں کی تعبیر نہایت ہی مشکل ہوگئی ہے ۔ بچوں کو اچھی تعلیم و تربیت پرسکون ماحول بالخصوص شہری زندگی کے اخراجات کو برداشت کرنا مشکل ہوگیا ہے ۔ ایسے میں سگریٹ کے عادی افراد اپنی عادت کو ترک کرتے ہوئے کافی حد تک اپنے خوابوں کی تعبیر کرسکتے ہیں ۔ مثلاً بچوں کو اچھے اسکول میں پڑھانا نوجوان نسل اپنے جائز مقاصد کو پورا کرنا ۔ مہنگا سیل فون اور ضروری تعلیمی اشیاء کی خرید اور اچھے ٹیوشن کلاسیس اپنے ذوق کیلئے موٹر سائیکل خریدنا یا پھر والدین کیلئے اپنے بھائی بہنوں کیلئے اچھے کام انجام دے سکتے ہیں ۔ ہاں یہ بالکل ممکن ہوسکتا ہے اگر سگریٹ کو ترک کیا جائے اور تمام خوشیوں میں رکاوٹ تصور کیا جائے تو یہ تمام خوشیاں صحت کے ساتھ ممکن ہوسکتی ہیں ۔ سگریٹ نوشی کا ایک دوسرا پہلو جو عام طور پر ڈاکٹرس اور بڑے بزرگ کہا کرتے ہیں نوجوان نسل جو آج کل اس لعنت میں زیادہ مبتلا ہے ۔ شادی کے بعد کی زندگی مسائل سے دوچار ہونے کا کافی خطرہ لاحق ہے ۔ نیز سگریٹ صحت اور معیشت دونوں کیلئے بھی خطرناک ہے اور سگریٹ نوشی ترک کرنے کیلئے نوجوان نسل کو اپنے طور پر اقدامات کرنے ہوں گے ۔