ہندو راشٹر سینا کے مزید دو کارکن گرفتار
پونے 9 جون ( سیاست ڈاٹ کام ) گذشتہ ہفتے ہڑپسر میں ایک نوجوان آئی ٹی پروفیشنل کے قتل کے سلسلہ میں مزید دو افراد کو گرفتار کرلیا گیا ہے ۔ پونے میں شیواجی اور شیوسینا سربراہ بال ٹھاکرے کی تصاویر کو مسخ کرکے فیس بک پر پیش کرنے کے بعد پرتشدد واقعات پیش آئے تھے ۔ پولیس نے یہ بات بتائی اور کہا کہ خود ساختہ ہندو راشٹرا سینا سے تعلق رکھنے والے مزید دو ملزمین کو گرفتار کرلیا گیا ہے ۔ اس گروپ پر 28 سالہ محسن شیخ کے قتل کا الزام ہے ۔ ہڑپسر پولیس عہدیداروں کا کہنا ہے کہ یہ گروپ اشتعال انگیز فیس بک پوسٹ کی وجہ سے احتجاج پر اتر آیا تھا ۔ یہ تصاویر نا معلوم افراد نے فیس بک پر پیش کی تھیں۔ اب قتل کیس میں مزید دو افراد کی گرفتاری کے بعد ہندو راشٹرا سینا کے جملہ 19 افراد گرفتار کرلئے گئے ہیں۔ سینا کے سربراہ دھننجے دیسائی سے بھی پولیس پوچھ تاچھ کر رہی ہے ۔ انہیں پونے میں اشتعال انگیز مواد پر مشتمل ورقئے تقسیم کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے جس کے نتیجہ میں فرقہ وارانہ منافرت پھیلنے کے اندیشے تھے ۔ اس دوران شہر میں کل رات بھی اس وقت کشیدگی پیدا ہوگئی تھی جب سوشیل میڈیا پر ایک اور متنازعہ پوسٹ آیا تھا جس میں دستور ہند کے معمار اور دلتوں کے لیڈر ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے تعلق سے ہتک آمیز ریمارکس تھے ۔ ریبپلکین پارٹی آف انڈیا کی جانب سے اس پوسٹ کے خلاف احتجاج کیا گیا ۔ ہجوم نے سنگباری کی جس کے نتیجہ میں چند بسوں کو نقصان پہونچا ۔ پولیس نے فوری حرکت میں آتے ہوئے صورتحال پر قابو پالیا ۔ پونے میونسپل کارپوریشن کے عہدیداروں نے یہ بات بتائی ۔