حیدرآباد ۔ 17 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز ) : سائی انسٹی ٹیوٹ آف اسپورٹس انجیوری اینڈ انتھرو اسکوپی (SISA) جہاں پر گھٹنے کی حفاظت کی ٹکنیکس پر بھر پور توجہ دی جاتی ہے ۔ اپنے پریس ریلیز میں کہا کہ ان کے ہاں گھٹنے کی تبدیلی کے لیے جدید طریقہ کار اپنائے جاتے ہیں ۔ ڈاکٹر کے راگھویر ریڈی جو اس قسم کے سرجری انجام دیئے ہیں اخباری نمائندوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ گھٹیا کے مریض کے لیے گھٹنے کی تبدیلی آپریشن دراصل روایتی ہے لیکن انہوں نے 55 سال سے کم عمر نوجوان مریضوں کو مشورہ دیا کہ وہ ایک حرکیاتی زندگی گذاریں تاکہ پیوندکاری اور دوسری سرجری سے بچا جاسکے ۔ انہوں نے کہا کہ گھٹنے کی تبدیلی کے بعد دس سال تک اس کی عمر ہوتی ہے اور دس سال کے گذرنے کے بعد دوسری سرجری کرنی پڑتی ہے ۔ جس کی عمر پہلے سے کم ہوجاتی ہے اور یہ عمل نوجوان مریضوں کے لیے ایک خطرناک عمل ہے جس کے لیے انہوں نے مشورہ دیا کہ گھٹنے کی حفاظت اور اس کے عمل کو متحرک رکھیں تاکہ عمل جراحی سے بچا جاسکے ۔ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے HTO سرجیکل ٹکنیک استعمال کی جاتی ہے جس کا مقصد گھٹنے کا تحفظ ہے اور اس طریقہ عمل میں Meniscus روٹ ریپر اور کارٹیلج سیل ایمپلانٹ کیا جاتا ہے ۔۔