نوجوانوں کو تعلیم وتربیت اور تزکیہ کا عملی نمونہ بننے کا مشورہ

ڈاکٹر سید محمد بن یحییٰ النینوی کا مسجد صوفی عیدگاہ بالمرائی سکندرآباد میں خطاب
حیدرآباد۔ 21 ڈسمبر (راست) نوجوان کسی بھی قوم کا بڑا قیمتی سرمایہ اور انمول اثاثہ ہوتے ہیں۔ اکیسویں صدی بدلتے اخلاقی، علمی، تحقیقی، ٹیکنالوجی اور میڈیائی پس منظر میں مسلم نوجوانوں کی ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں۔ نوجوانوں کو بام ثریا پر اگر جانا ہو تو ان کو تعلیم و تربیت اور تزکیہ کا عملی نمونہ پیش کرنا پڑے گا۔ آج دنیا اسلام کی طرف دیکھ رہی ہے کہ اسلام اس دنیا کا واحد نجات دہندہ عالمگیر بھائی چارہ، اخوت و رواداری اور محبت و امن کا مذہب ہے۔ دہشت گردی اور تشدد پسندی کو اسلام میں کوئی جگہ نہیں ہے۔ صحابہ کرامؓ آل رسولؐ اور ان کے جانشینوں صوفیہ کرام نے اسلام کی حقیقی شبیہ کو عالم انسانیت کے سامنے پیش کیا۔ آج بھی ان کی پاکیزہ تحریک جاری ہے۔ نوجوان اسلام ایمان ایقان اور واجدان کی پہچان بنیں۔ ان خیالات کا اظہار امریکہ کے ممتاز صوفی جدید اعلیٰ تعلیم یافتہ ڈاکٹر الشیخ محمد بن یحییٰ النینوی الشافعی الطلبی نے فرمایا وہ سکندرآباد علاقہ کی بالمرائی میں واقع مسجد صوفی میں مسلمانوں کے ایک بڑے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اہل سنتہ والینٹرس اسوسی ایشن حیدرآباد کے زیراہتمام منعقدہ اس اجلاس میں جناب صوفی محمد نعیم نے نگرانی کی اور مہمان کی خدمت میں تحفہ شال اور گل پیش کیا۔ مولانا شاہ محمد فصیح الدین نظامی خطیب جامع مسجد سکندرآباد نے بھی خطاب کیا۔ جناب خان محمد ارشد حسینی نے منقبت سنائی مولانا قاری سید اسمعیل ذبیح اللہ نے قرأت پڑھی۔ جناب عمران، جناب شعیب الرحمن نے مہمان کا استقبال کیا۔ خواتین کیلئے علیحدہ نظم کیا گیا تھا۔ صلاۃ و سلام اور دعا پر جلسہ کا اختتام عمل میں آیا۔