حیدرآباد ۔ 12 ۔ مئی : ( ابوایمل ) : حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ عشاء سے پہلے سونا اور عشاء کے بعد گفتگو کرنا نا پسند فرماتے تھے ۔ ( بخاری شریف ) ۔ پیارے نبی کریم ﷺ کی یہ حدیث مبارک ہماری کامیابی کی کلید بن سکتی ہے ۔ لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نے اپنے نبیؐ کی پیاری پیاری باتوں پر عمل کرنے کی بجائے گمراہی کا راستہ اختیار کرلیا ہے ۔ رات کو جلد سوتے نہیں صبح کو جلد اٹھتے نہیں پھر شکوہ کرتے ہیں کہ روزگار سے محروم ہیں ۔ غربت کے دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں ۔ کاروبار ٹھپ ہوچکے ہیں ۔ اولاد بگڑ چکی ہے ۔ نافرمانی اپنا شیوہ بن گیا ہے ۔ تعلیمی میدان میں بھی حالت قابل رحم ہوگئی ہے ۔ ان شکایات کی بجائے اگر ہم اور ہمارے نوجوان حضور ﷺ کی مذکورہ بالا حدیث پر عمل کرلیں تو یہ چیلنج سے کہا جاسکتا ہے کہ نہ غربت رہے گی اور نہ ہی جہالت کا رونا بلکہ مسلم معاشرہ میں خوش حالی ہی خوش حالی ہوگی ۔ قارئین آج ہمارے شہر میں ایک 17 سالہ نبیل محمد کی موت موضوع بحث بنی ہوئی ہے ۔ کوئی اسے آوارہ دوستی کا نتیجہ قرار دے رہا ہے تو کسی کی زبان پر یہ سوالات آرہے ہیں کہ اس نوجوان کی موت کا کون ذمہ دار ہے ۔ اس کے آوارہ دوست یا پھر ماں باپ ؟ راتوںکا جاگنا اور دن میں دیر تک سونا یہ ایسی بیماریاں ہیں جو ہمارے شہر کو برسوں سے لپٹے ہوئے ہیں ۔ رات دیر گئے تک چبوتروں پر بیٹھنا اور ہوٹلوں میں وقت ضائع کرنا ، ماں باپ کی جانب سے قیمتی گاڑیوں کے تحفوں کا غلط استعمال کرتے ہوئے مختلف مقامات کے سیر سپاٹے ، لوگوں کی نیندیں حرام کرنا ، پٹرول کو ضائع کرنا یہ آج کے نوجوانوں کا ’ لائف اسٹائیل ‘ بن چکا ہے اور اگر کوئی نوجوان یا ان کا ساتھی رات دیر گئے تک جاگنے سے معذرت کرلیتا ہے تو اسے ’’ ممی پپا کا بچہ ‘‘ کہتے ہوئے اس کا مذاق اڑایا جاتا ہے ۔ مہذب سماج کے لوگ جب فجر کے وقت اپنی نیند سے بیدار ہو کر مساجد اور اپنے دیگر ضروری امور کی تکمیل کے لیے منزل مقصود کی طرف چل پڑتے ہیں ۔ اس وقت راتوں میں سڑکوں پر شور و غل اور دوسروں کی نیندیں خراب کرنے والے یہ نوجوان اپنے اپنے گھروں میں داخل ہوتے ہیں ۔ نبیل کے معاملے میں پولیس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے جو باتیں بتائیں وہ خواب غفلت میں موجود ماں باپ اور نوجوانوں کے سرپرستوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے کافی ہیں کیوں کہ پولیس کے اعلیٰ عہدیدار نے آدھی رات کے بعد شہر کی مختلف سڑکوں اور مختلف مقامات پر لگے ہوئے کیمروں کے شواہد کی روشنی میں کہا کہ نبیل واقعہ کے وقت نوجوانوں کی گینگ کونسی گاڑیوں پر کتنی سواریوں اور کس مقام پر کس وقت کس سڑک کی کس جانب سے کس منزل کی طرف آگے بڑھی ۔ یہ بھی کہا کہ رات 3 بجے یہ لوگ معظم جاہی مارکٹ پر دوسہ بھی کھا رہے تھے ۔ کیا یہ ایک واقعہ ان ہزاروں نوجوانوں کی راتوں میں غلط اور غیر ضروری سرگرمیوں کی منہ بولتی مثال نہیں ہے اور کیا ان نوجوانوں کے ماں باپ اپنی اولاد کی ان حرکتوں سے باخبر نہیں ہیں ۔ اگر ماں باپ اپنے بچوں کے راتوں میں جاگنے اور آوارہ دوستوں کے ساتھ سڑکوں پر پھرنے سے باخبر ہیں تو پھر ان کی صحیح تربیت کے لیے کیا کیا جارہا ہے ۔ ؟ نوجوانوں کے بننے اور بگڑنے میں والدین اور خاص کر ماں کا اہم کردار ہوتاہے کیوں کہ ماں ممتا کی ماری ہونے کی وجہ سے کبھی کبھی اولاد کی غلطیوں پر پردہ ڈال کر انہیں باپ کے غصہ اور مار سے بچاتی ہے لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ ایسی حرکت کی فوراً اصلاح کی جائے جو کہ آگے چل کر کسی بڑے حادثے کی وجہ بن سکتی ہے ۔ ماں باپ کی تربیت کے علاوہ دوستی اور ماحول بھی بگاڑ کی اہم وجہ بنتے ہیں جیسا کہ آج شہر میں اسنوکرس ، حقہ پارلرس ، اور کیرم کلبس بھی نوجوانوں کی بگاڑ کی اصل وجہ بن رہے ہیں ، کیوں کہ راتوں میں یہاں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہوتی ہے ۔ غیر سماجی اڈوں پر نوجوانوں کو بگاڑنے کا جہاں الزام لگایا جارہا ہے ۔ وہیں پولیس کو بھی ایسے سخت اقدامات کرنے چاہئے جس سے ان اڈوں پر رات دیر گئے تک ہونے والی سرگرمیوں کو روکا جاسکے ۔ قارئین ! خاندان کا ایک چشم و چراغ نبیل اس دنیائے فانی سے کوچ کرچکا ہے ۔ لیکن اس کی موت نے ہمیں ایک پیغام دیا ہے کہ ہماری نوجوان نسل جو راہ اختیار کررہی ہے وہ سراسر گمراہی ہے لہذا اپنے بچوں کو بچانے کے لیے ماں باپ کو ہی اب آگے آنا ہوگا ۔۔