اسلام آباد ۔ 9 جنوری۔( سیاست ڈاٹ کام ) پاکستان کے طالبان سربراہ نے اپنے عسکریت پسندوں کو حکم دیا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف کی حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے قائدین کو نشانہ بنائیں۔ یاد رہے کہ حکومت پاکستان کی جانب سے سزائے موت پر عائد امتناع برخاست کرتے ہوئے دہشت گردوں پر مقدمہ چلانے کیلئے فوجی عدالتیں قائم کی گئی ہیں۔ اُسی کے تناظر میں پاکستانی طالبان نے یہ بیان جاری کیا ۔ بادی النظر میں افغانستان میں اپنے خفیہ ٹھکانے پر ریکارڈ کئے گئے ایک ویڈیو پیغام میں تحریک طالبان سربراہ ملّا فضل اﷲ نے اپنے ’’مجاہدین‘‘ کو حکم دیا ہے کہ وہ پی ایم ایل ۔ ایم قائدین کو سختی کے ساتھ نشانہ بنائیںتاکہ وہ راہِ راست پر آجائیں یا پھر جہنم رسید ہوجائیں۔ اپنے ویڈیو پیغام میں ملا فضل اﷲ نے مزید کہا کہ وہ نواز شریف سے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اُن کا ( طالبان ) سب سے پہلا دشمن عوامی نیشنل پارٹی ہے لیکن اب اُن کا (طالبان) موقف بدل گیا ہے اور تمام ’’مجاہدین‘‘ کو جو پاکستان میں جہاد کا حصہ ہیں ، وہ نواز شریف کی پی ایم ایل ۔ این قائدین کو نشانہ بنائیں۔ یہاں اس بات کا تذکردہ دلچسپ ہوگا کہ 40 سالہ فضل اﷲ جسکی عرفیت ’’ریڈیو ملاّ‘ ‘ بھی ہے ، وادی سوات میں حکیم اﷲ محسود کی ہلاکت کے بعد طالبان سربراہ بن گیا۔
نواز شریف کے اثاثہ جات کا تخمینہ 2 بلین روپئے
اسلام آباد ۔ 9 جنوری۔( سیاست ڈاٹ کام ) وزیراعظم پاکستان نواز شریف ملک کے قانون سازوں میں دو بلین کے اثاثہ جات کیساتھ امیر ترین قانون ساز ہیں۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں لاکھوں افراد خطِ غربت کے نیچے زندگی بسر کرتے ہیں۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کو 2014-15 کیلئے دیئے گئے ایک بیان کے مطابق خود اُن کے اور اُن کی اہلیہ کے اثاثہ جات کا تخمینہ 1.71 بلین روپئے سے بڑھکر 2.36 بلین روپئے ہوگیا ہے ۔ حدیبیہ انجینئرنگ کمپنی ، حدیبیہ پیپر ملز ، محمد بخش ٹیکسٹائیل ملز اور رمضان اسپننگ ملز میں اُن کے حصص جوں کے توں برقرار ہیں البتہ چودھری شوگر ملز میں اُن کی سرمایہ کاری میں 600فیصد کا اضافہ نوٹ کیا گیا ہے ۔