حیدرآباد ۔ 6 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز ) : سالار جنگ میوزیم میں جاری نمائش اسلامی خطاطی میں عوام کا بلا لحاظ مذہب و ملت اژدھام ، آخری تین یوم باقی جمعہ کے دن تعطیل کے باوجود نمائش جاری رہے گی ۔ ایران اور ہندوستانی خطاطوں کے دیدہ زیب نمونوں کو دیکھنے کا جمعہ آخری دن ہوگا ۔ جناب احمد علی صدر شعبہ مخطوطات سالار جنگ میوزیم کے بموجب روزنامہ سیاست اور قونصل جنرل اسلامی جمہوریہ ایران کے اشتراک سے منعقدہ اس نمائش کی ناظرین ہر طرح سے ستائش کررہے ہیں اور نمائش میں رکھے گئے خطاطی کے نمونوں کو اسلامی تہذیب کا اہم حصہ قرار دے رہے ہیں ۔ سید محی الدین رقمطراز ہیں کہ نمائش خطاطی بہت خوب ہے ۔ میلاد النبیؐ کے موقع پر اسے دیکھنے کا موقع عطا ہوا ۔ حیدرآباد کے بزرگ خطاط جناب ضمیر الدین نظامی نے خوشنویسوں کی مہارت اور کاریگری کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ خط شکستہ اور شفیعہ جو اہل ایران کی دین ہے
ایرانی خطاطوں نے خط نسخ اور تعلیق کو یکجا کر کے خط نستعلیق وجود میں لایا اور پھر اس سے شکستہ و شفیعہ خطوط وضع کئے ۔ حاکم ہرات مرتضی قلی شاملو نے خط شکستہ وضع کیا اور اس کے منشی مرزا شفیائی نے خط شفیعہ رائج کیا ۔ اب اہل ایران اپنے خطاطی کے نمونوں کی مختلف رنگوں سے آرائش کررہے ہیں ۔ محترمہ بھاگیہ شری پی ڈھابلے جو اورنگ آباد سے تشریف لائی ہیں خطاطی کے ان طغروں کو ہندوستان کا شاندار ورثہ قرار دیا ۔ جامعہ عثمانیہ کے طالب علم ڈاکٹر بی سریش نے خوشنویسی کے ان شاہکار نمونوں کو تہذیب و تمدن کا اثاثہ اور فنکارانہ صلاحیتوں کا منبع قرار دیا ۔ کرتینا ٹامل ناڈو سے تشریف لائیں رقمطراز ہیں کہ حالانکہ انہیں اردو نہیں آتی لیکن خطاطی کی یہ وصلیاں انہیں متاثر کررہی ۔ محترمہ شاہانہ خاتون رقمطراز ہیں خطاطی کے یہ نمونے نظروں کو خیرہ کررہے ہیں ہر سال اس کی نمائش کا اہتمام کیا جانا چاہئے ۔ جناب اظہر محمود اپنے خیالات اس طرح قلمبند کرتے ہیں کہ یہاں کی آئیل پنٹنگز میں جو قرآنی آیات تحریر کی گئی ہیں اور اسے سمجھانے کے لیے ڈرائنگ کا سہارا لیا گیا ہے ۔ قابل دید ہے اور جناب ناصر الدین وقار کا لکڑی کا جو کام ہے وہ دلوں کو چھو رہا ہے ۔ اس نمائش کا اہتمام ورنگل میں کیا جائے ۔
ہاس پیٹ کرناٹک سے تشریف لائیں غوثیہ بیگم رقمطراز ہیں کہ خطاطی کی یہ گیلری عمدہ ہے ۔ جناب مرتضی ٹولی چوکی نے خطاط موسیٰ یداللہی کے کام کو سراہا ہے ۔ کانسپٹ گرلز ہائی اسکول شاہین نگر کے پرنسپال سید عبدالروف جو اپنے اسکول کی طالبات کے ساتھ تشریف لائے رقمطراز ہیں کہ درود شریف ، اسمائے حسنی ، سورہ رحمن وغیرہ کے طغرے قابل دید ہیں ۔ محترمہ ثمینہ قولانی جو پتلی باولی سے آئی لکھتی ہیں کہ لکڑی کی نقاشی اور کتابت قابل دید ہے ۔ محترمہ پوجا نے ان نمونوں کو عمدہ قرار دیا ۔ پٹنہ بہار سے تشریف لائے محمد نوشاد رقمطراز ہیں کہ اسلامی خطاطی کے یہ نمونے ایمان کو تازگی عطا کرتے ہیں ۔ اخبار سیاست اگر پٹنہ بہار میں بھی اس کا اہتمام کرے تو اہل بہار بھی خطاطی کی چاشنی سے واقف ہوں گے ۔ محترم شیورام بیان کرتے ہیں کہ قرآن کو یہاں پر جس خوبصورتی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے میں اور میرے دوست احباب سب اس سے متاثر ہوئے ہیں ۔ محترمہ عرشیہ عامرہ خاں رقمطراز ہیں کہ جتنی دیر بھی نمائش کا میں نے مشاہدہ کیا اللہ رب العزت کی بزرگی بیان کرتے اور اس کا ذکر کرتے ہوئے نمائش کا مشاہدہ کیا ۔ اللہ کے ذکر سے نمائش کے طغروں کو دیکھتے ہوئے ایمان میں تازگی نصیب ہوئی سورہ رحمن کی آیات دیکھی تو بس اللہ یاد آگیا اور کل نفس ذائقہ الموت نظروں میں گھوم گیا ۔
بس اللہ سے دعا ہے کہ ایمان پر خاتمہ کرے خطاطی کی یہ وصلیاں دل و دماغ کو منور کردی ہیں ۔ سالار جنگ میوزیم میں جاری ایرانی اور ہندوستانی خطاطوں کے فنی شاہکاروں میں حیدرآباد کے قریشی برادری سے تعلق رکھنے والی حافظہ مبینہ بیگم کی وصلیاں بھی شامل ہیں جن میں قابل ذکر قرآن مجید کا وہ نسخہ ہے جو خط نسخ میں انہوں نے سولہ برس کی عمرمیں تکمیل کیا تھا ۔ قرآن مجید کا یہ نسخہ ناظرین کی دلچسپی کا مرکز بنا ہوا ہے ۔ اسی طرح حافظہ مبینہ بیگم نے قرآن مجید کولولہ کی طرز میں لکھنا شروع کیا ہے جو اسمائے حسنیٰ میں بخط غبار تحریر کیے جارہے ہیں ۔ فی الحال اس نسخہ کو جس کے دس پاروں کی کتابت تکمیل کی گئی ہے نمائش میں رکھا گیا ہے نمائش کے مشاہدے کے لیے آنے والے لوگ بڑی دلچسپی کے ساتھ اس کلام مجید کے نسخہ کو دیکھ رہے ہیں ۔
علاوہ ازیں حافظہ مبینہ کے تحریر کردہ خط طغریٰ کے نمونے بھی یہاں رکھے گئے ہیں ۔ جن کی آرائش کانچ ، کالی پوت ، ماچس کی تیلیوں اور باسمتی چاول کی دھان سے کی گئی ہے ۔ پریس نوٹ کے بموجب حافظہ مبینہ بیگم نے کم عمری میں ہی کلیتہ اللبنات جامعہ نظامیہ سے حفظ قرآن کی تکمیل کی اور سولہ سال کی عمر میں اندرون بارہ ماہ انہوں نے قرآن مجید خط نسخ میں لکھ کر پیش کیا اور ان کے اس نسخے کی نمائش کا اہتمام سالار جنگ میوزیم میں کیا گیا ۔ علاوہ ازیں ان کی نمائش مختلف مقامات پر منعقد ہوئی انہوں نے جناب منظور محی الدین سے خطاطی کی تربیت حاصل کی ۔ جناب ضمیر الدین نظامی جیسے قد آور خطاطوں نے ان کی رہبری کی ۔ حال ہی میں انہیں اسکالرس اکیڈیمی کی جانب سے ایوارڈ عطا کیا گیا ۔ ادارہ سیاست کی جانب سے منعقدہ نمائش 2012 میں بھی ان کی وصلیوں کی نمائش کی گئی ۔ امسال جاری نمائش میں ان کے وصلیاں اور قرآن مجید کے نسخے ناظرین کافی حد تک پسند کررہے ہیں اور حافظہ مبینہ ان دنوں مدرسہ منہاج القرآن کے شعبہ حفظ سے وابستہ ہیں ۔۔