شادی خانہ کے باہر اندھادھند فائرنگ کردی گئی ، پولیس کو نعیم پر شبہ ، سیاسی قائدین کا اظہار افسوس
نلگنڈہ 11 مئی (سیاست نیوز) دن دھاڑے دلیرانہ طور پر قتل کا سنسنی خیز واقعہ آج اس وقت پیش آیا جب ٹی آر ایس ضلع نائب صدر و سابقہ ماوسٹ کونا پوری راملو 40 سالہ اپنے دوست کی دختر کی شادی میں شرکت کے بعد شادی خانہ سے باہر آرہے تھے کہ چند نا معلوم افراد نے مرچ پاوڈر پھینک کر قریب سے 5 راونڈ فائرنگ کر کے راہ فرار اختیار کرلی۔ تفصیلات کے بموجب سابقہ سکریٹری ماوسٹ و ٹی آر ایس قائد کے سامبا شیو ڈو کے بھائی جو کہ اپنے بھائی کے ساتھ ہی خودسپردگی اختیار کی تھی نے آج 11.30 بجے کے قریب جے اے سی ضلع قائد مسٹر پرواتالو کی دختر کی شادی جو کہ ایم اے بیگ فنکشن ہال رام نگر مریال گوڑہ تھی پہنچ کر دلہا دولہن کو آشیر واد دیا اسی دوران بانی صدر ٹی آر ایس مسٹر کے چندر شیکھر راو جو صدر ضلع ٹی آر ایس کی دختر کی شادی میں شرکت کیلئے پہونچنے کی اطلاع پر فوری وہاں سے چلنے کیلئے شادی خانہ سے باہر آرہے تھے کہ چند نا معلوم افراد نے ان پر اور ان کے دو گن مینوں پر مرچ پاوڈر پھینک کر بالکل قریب سے ریوالور سے پانچ راونڈ فائرنگ کی جس کونا پور ی راملو زمین پر گر پڑے حملہ آور نے چاقو سے وار کر کے شادی خانہ کی دیوار پھاند کر فراری اختیار کرلی ۔
بتایا جاتا ہیکہ حملہ آوروں نے ہوا میں بھی ایک گولی چلائی جس کی وجہ سے شادی خانہ میں موجود کوئی بھی درمیان میں جانے کی جرات نہیں کی ۔ شادی خانہ میں موجود افراد نے قتل کی اطلاع پولیس کو دی اور کونا پوری راملو جو برسر موقع ہلاک ہوگئے تھے کو سرکاری دواخانہ منتقل کردیا واقعہ کی اطلاع پر ضلع ایس پی ڈاکٹر پربھاکر راو ،ایڈیشنل ایس پی شریمتی راما راجیشور ی ڈی ایس پی نلگنڈہ بھی سرکاری دواخانہ پہنچ کر گن مین سے بات چیت کی اور مقام واردات کا معائنہ کیا جہاں پر عوام میں خوف و ہراس کا ماحول دکھائی دے رہا تھا۔ پولیس نے فوری ڈاگ اسکواڈ کو طلب کیا اور مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا آغاز کردیا ۔ اسی دوران نائب صدر ٹی آر اسی کونا پوری راملو کے قتل کی اطلاع پر ڈی آئی جی مسٹر ششی دھر ریڈی بھی سرکاری دواخانہ پہنچ کر عہدیداروں سے معلومات حاصل کی اور مقام واردات کا معائنہ کیا ۔ واضح رہے کہ کونا پوری راملو پر 2 مربتہ ناکام قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا جس کی وجہ سے گن مینوں کو بھی حاصل کیا اور اپنے آبائی مقام جو کہ ضلع نلگنڈہ کے ولی کنڈہ منڈل کے موضع درسی ریڈی گوڑم سے حیدرآباد منتقل ہوگئے تھے ۔ وہ اپنے بڑے بھائی جو کہ ماوسٹ پارٹی کے سکریٹری کے سامبا شیوڈو کے ساتھ خودسپردگی اختیار کرلی تھی ان کے بھائی کا بھی 2011 ء میں قتل کردیا گیا تھا ۔ کونا پوری راملو کرشنا پٹی اور آلیر دلم میں کام کیا اور اس وقت اپنی شادی کویتا سے کی تھی ان کو 2 لڑکے اور ایک لڑکی ہے شوہر کے قتل کی اطلاع پر راملو کے والدین کے ہمراہ سرکاری دواخانہ پہنچے ۔
قتل کی اطلاع عام ہوتے ہی مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین نے دواخانہ پہنچ کر شدید رنج و غم کا اظہار کیا اور قتل کی مذمت کی بعدازاں مہلوک کی حفاظت میں پولیس کی ناکامی کا الزام عائد کرتے ہوئے دواخانہ کے یہاں یادو تنظیم نے دھرنا دیا بعد پوسٹ مارٹم نعش کو ٹی آر ایس آفس منتقل کی اگیا جہاں پر عوامی دیدار کے بعد ان کے آبائی موضع درسی ریڈی گوڑم منتقل کردیا جائے گا ۔ اس واقعہ کے بعد ضلع مستقر پر پولیس نے سخت حفاظتی انتظامات کئے اور پٹرولنگ میں تیزی پیدا کردی گئی۔ اسی دوران نلگنڈہ ضلع سپرنٹنڈنٹ پولیس پی پربھاکر راو نے کہا کہ پولیس کو راملو قتل واقعہ میں سابق نکسلائیٹ لیڈر نعیم الدین عرف نعیم کے ملوث ہونے کا شبہ ہے ۔ٹی آر ایس پولیٹ بیورو رکن کُنا پوری ایلیا عرف سامبا شیوڈو جو سابق ماوسٹ لیڈر بھی ہے کہ قتل کیس میں نعیم کلیدی ملزم کی حیثیت سے شامل ہیں۔ضلع پولیس نے سامبا شیوڈو قتل کیس کے ضمن میں اپریل 2011 کے دوران 12 کے منجملہ 5 ملزمین کو گرفتار کرتے ہوئے یہ دعوی کیا تھا کہ نعیم کی ایماء پر ملزمین نے سامبا شیوڈو کا قتل کیا تھا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ راملو نے قبل ازیں ایک خانگی ٹی وی نیوز چینل سے کہا تھا کہ اس کی زندگی کو نعیم کی دھمکیوں سے سنگین خطرہ لاحق ہے۔ راملو نے چینل مزید کہا تھا کہ ’’ مجھے اُن (نعیم) سے کوئی دشمنی نہیں ہے اس کے باوجود وہ میرے پیچھے پڑے ہیں اور مجھے ہلاک کرنے کیلئے کئی حملے کئے جاچکے ہیں اور مجھے مختلف تنظیموں کے نام سے کئی دھمکی آمیز فون کالس موصول ہورہے ہیں اور یہ دھمکی دی جارہی ہے کہ مجھے ہلاک کردیا جائے گا‘‘۔