زندگی کے ہر شعبہ میں معاشرہ توہم پرستی کا شکار ، مسلمان بھی متاثر
( چوتھی قسط )
حیدرآباد ۔ 17 ۔ جولائی : ( سیاست نیوز ) : ہندوستانی معاشرہ کی خامیوں میں سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ یہاں توہم پرستی کا راج ہے ۔ سنتری سے لے کر منتری اور عام آدمی سے لے کر متمول صنعت کار یہاں تک کہ ماہرین تعلیم بھی توہم پرستی کی بیماری میں مبتلا ہیں ۔ ہندوستان میں خاص کر ہمارے غیر مسلم برادران وطن میں یہ بیماری بہت زیادہ پائی جاتی ہے ۔ نتیجہ میں وہ خود ساختہ باباؤں ، سادھوں اور سوامیوں کا بآسانی شکار ہوجاتے ہیں ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ زانی باباؤں کے معتقدوں یا ان کی تعریف و ستائش کرنے والوں میں ہمارے عزت مآب وزیراعظم مودی ان کی پارٹی ( بی جے پی ) کے قدآور رہنما بھی شامل ہیں ۔ ان خود ساختہ باباؤں میں سے چند جیل کی ہوا کھا رہے ہیں ۔ بابا رام رحیم آسا رام بابو اور ان کے کارناموں سے کون واقف نہیں ہیں ۔ انہیں دولت مند با اثر بنانے والے کون ہیں ؟ اس تعلق سے بھی سب جانتے ہیں ۔ ستپال اور داتی مہاراج کو کون نہیں جانتا یہ لوگ بالترتیب قتل اور عصمت ریزی کے مقدمات کا سامنا کررہے ہیں ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ایسے ڈھونگی باباؤں کو سیاسی سرپرستی بھی حاصل ہوتی ہے ۔اور وہ سیاستداں ، اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ گٹھ جوڑ کے ذریعہ بیوقوفوں کو مزید بیوقوف بناتے ہیں ۔ بھولی بھالی خواتین کو ہتھیلی میں جنت دکھا کر ان کا جنسی استحصال کرتے ہیں ۔ ہمارے ملک کی توہم پرستی میں کسی بھی نقد تحفہ میں ایک روپیہ اضافہ کرنا بھی شامل ہے ۔ لوگ بطور تحفہ 50 کی بجائے 51 ، 100 کی بجائے 101 ، 500 کی بجائے 501 اور 1000 کی بجائے 1001 ، 100 کی بجائے دس ہزار ایک روپئے پیش کرتے ہیں اور اس ایک روپئے کو خوشحال زندگی کا شگون سمجھا جاتا ہے ۔ غیر مسلموں میں یہ تو پایا جاتا ہے کہ اس طرح سے نقد تحفہ کے دینے سے دولت کی فراوانی ہوتی ہے ۔ یہ دراصل لکشمی ہے جو خوشحالی میں اضافہ کرتی ہے ۔ بعض مسلمانوں میں بھی یہ ہندوانہ رسم یا توہم پرستی پائی جاتی ہے حالانکہ ہمارے دین میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے ۔ توہم پرستی کے لیے کوئی جگہ نہیں مسلمانوں کا یہی ایمان ہے کہ ہر چیز کے دینے والے اللہ تعالیٰ ہیں ۔ صحت و تندرستی ، بیماری ، عزت ، خوشی ، غم ، دولت ، غربت ، غرض ہر چیز کے دینے والے اللہ تعالی ہیں ۔ ویسے بھی توہم پرستی کا شکار وہی ہوتے ہیں جو دین سے دور ہوتے ہیں یا جن کا دین اسلام سے تعلق نہیں ہوتا ۔۔ (سلسلہ جاری ہے )