نظام اور کے سی آر کے دورِ حکومت میں کوئی فرق نہیں

ٹی آر ایس حکومت پر ہندو مفاد کے خلاف کام کرنے کا الزام: سکریٹری وشوا ہندو پریشد پروین تگاڑیا
حیدرآباد /11 دسمبر (سیاست نیوز) وشوا ہندو پریشد کے سکریٹری پروین تگاڑیا نے نظام اور ٹی آر ایس سربراہ کے چندر شیکھر راؤ کے دور حکومت میں کوئی فرق نہ ہونے کا ادعا کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو مذہب کے نام پر 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کی کوشش، تلنگانہ کے ہندوؤں کے ساتھ ناانصافی ہے۔ انھوں نے شمس آباد ایرپورٹ پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت ہندو مفادات کے خلاف کام کر رہی ہے اور ہندوؤں کو نظرانداز کرکے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنا چاہتی ہے، جس کی وشوا ہندو پریشد سخت مخالفت کرتی ہے۔ انھوں نے مذہبی تحفظات کو قانون کے خلاف قرار دیا اور کہا کہ مسلمانوں کو حج سبسیڈی دی جا رہی ہے، جب کہ ہندوؤں کے لئے ایسی کوئی سبسیڈی نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ مکہ میں ہندوؤں کے داخلہ پر امتناع ہے، جب کہ تروپتی میں تبدیلی مذہب کے لئے کھلی چھوٹ دی جا رہی ہے۔ پروین تگاڑیا نے کہا کہ سربراہ ٹی آر ایس کے چندر شیکھر راؤ کا دور اقتدار نظام دور کی یاد تازہ کر رہا ہے۔ جس طرح نظام کو اقتدار سے بے دخل کیا گیا تھا، اسی طرح وشوا ہندو پریشد ٹی آر ایس حکومت کے خلاف تحریک چلاکر کے چندر شیکھر راؤ کو اقتدار سے محروم کردے گی۔ انھوں نے کہا کہ تلنگانہ میں تمام شعبوں میں صرف مسلمانوں کو ترجیح دی جا رہی ہے اور ہندوؤں کو نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہاکہ رام سیتو کو کوئی منہدم نہیں کرسکتا، اس طرح کی کوششوں کو وشوا ہندو پریشد برداشت نہیں کرے گی۔ اس موقع پر انھوں نے وی ایچ پی بھاگیہ نگر ویب سائٹ کا افتتاح کیا اور اب وہ سنگاریڈی، محبوب نگر، کرنول اور کڑپہ کا دورہ کریں گے۔