بلاسپور۔23 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) اڈیشہ میں نس بندی آپریشنس کے دوران 13 خواتین کی موت اور دیگر بے شمار کی حالت نازک ہونے کے تقریباً 2 ہفتہ بعد میڈیکل رپورٹس میں اس بات کی توثیق ہوئی ہے کہ سرجری کے بعد خواتین کو جو ادویات دی گئیں، ان میں زہریلے اجزاء موجود تھے۔ وزیر صحت امر اگروال نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ میڈیکل کیمپس میں متاثرہ خواتین کو فراہم کی جانے والی ادویات غیرمعیاری تھیں اور اس میں زہریلی اجزاء کی بھی موجودگی کا پتہ چلا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان ادویات کے نمونوں کی طبی جانچ کے بعد رپورٹس موصول ہوچکی ہیں۔ دہلی اور کولکتہ کے بشمول کئی لیباریٹریز میں نمونہ کا معائنہ کیا گیا اور وہاں سے موصولہ رپورٹس پولیس کے حوالے کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب یہ واضح ہوچکا ہے کہ زہریلی ادویات خواتین کی موت کا سبب بنی۔ تاہم انہوں نے یہ صراحت نہیں کی کہ ان ادویات میں کس نوعیت کا زہریلا مادہ پایا گیا۔ اگروال نے ڈاکٹرس کی لاپرواہی کا امکان بھی مسترد نہیں کیا ہے۔