نریندر مودی کے مقابلہ میں سینئیر ہوں : چندرا بابوکا ادعا

پیراوانی پراجکٹ کا رسم افتتاح ، جگن اور کے سی آر پر تنقید ، چیف منسٹر اے پی کا خطاب
حیدرآباد /10 اکٹوبر ( سیاست نیوز ) قومی صدر تلگودیشم پارٹی و چیف منسٹر آندھراپردیش مسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے وزیر اعظم نریندر مودی اور ریاستی سیاسی جماعتوں وائی ایس آر کانگریس پارٹی اور پون کلیان کی زیر قیادت جنا سینا پارٹی کے علاوہ تلنگانہ میں مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی زیر قیادت تلنگانہ راشٹرا سمیتی کو غیر معمولی انداز میں تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ سیاسی لحاظ سے مسٹر نریندر مودی کے مقابلہ میں ملک گیر سطح پر ہی میں سب سے سینئیر سیاسی قائد ہوں اس کے باوجود مسٹر نریندر مودی انہیں سیاسی اعتبار سے بچہ سمجھ رہے ہیں ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ بچہ کیا کرسکتا ہے ۔ اس سے نریندر مودی ’’ نابلد‘‘ ہیں ۔ آج ضلع اننت پورہ میں واقع بیراوانی تپا پراجکٹ کے پلان کا رسم نقاب کشائی انجام دینے کے بعد منعقدہ جلسہ عام سے خطاب کے دوران مسٹر چندرا بابو نائیڈو نے پون کلیان ، جگن موہن ریڈی اور تلنگانہ کے کے سی آر کو سخت الفاظ میں ہدف ملامت بنایا اور کہا کہ آندھراپردیش میں دو تین سیاسی پارٹیاں پائی جاتی ہیں ۔ جن میں ایک سیاسی پارٹی وائی ایس آر کانگریس پارٹی جوکہ بے قاعدگیوں میں ملوث کرپٹ پارٹی کہلاتی ہے ۔ ساتھ ہی ساتھ سی پی آئی تحقیقات کا بھی سامنا کرتے ہوئے جو کوئی بھی مرکز میں برسر اقتدار رہنے والی پارٹی کی حکومت ہوتی ہے ۔چیف منسٹر نے واضح طور پر کہا کہ وائی ایس ار کانگریس پارٹی ارکان پارلیمان مکمل معلومات کے بعد ہی دوبارہ ضمنی انتخابات منعقد نہ ہونے کا بھروسہ حاصل کرنے کے بعد ہی لوک سبھا کی رکنیت سے مستفی ہوگئے ۔ جس کا ثبوت مرکزی الیکشن کمیشن کے بیان سے ہی حاصل ہوتا ہے ۔ مسٹر چندرا بابو نے تلنگانہ میں عظیم اتحاد میں شامل ہونے پر تلگودیشم کو تنقید کا نشانہ بنانے والے قائدین ( بالخصوص ٹی آرا یس قائدین ) کو دو ٹوک انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ تلگودیشم پارٹی تلگو عوام کے مفادات کا تحفظ کرنے کیلئے قائم کی گئی اور ٹی آر ایس زیر قیادت حکومت میں تلگو عوام کے مفادات کو فراموش کیا جارہا ہے ۔ جس کی وجہ سے ہی عظیم اتحاد میں شامل جماعتوں کی تائید کی جارہی ہے ۔