نریندر مودی کا چندرا بابو نائیڈو سے دو مرتبہ ٹیلی فون پر ربط

حیدرآباد۔/7مئی، ( پی ٹی آئی) سیما آندھرا کے 13اضلاع میں رائے دہی کے دوران بی جے پی کے وزارت عظمیٰ کے امیدوار نریندر مودی نے تلگودیشم پارٹی کے صدر این چندرا بابو نائیڈو سے آج دن میں کم سے کم دو مرتبہ فون پر ربط پیدا کرتے ہوئے رائے دہی کے ’’رجحان ‘‘ دریافت کیا۔ باور کیا جاتا ہے کہ مسٹر نائیڈو نے جواب میں صرف ’ سازگار‘ قرار دیا اور کہاکہ سیما آندھرا میں اسمبلی کے 175اور لوک سبھا کے 25حلقوں کیلئے آج منعقدہ رائے دہی سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ تلگودیشم۔ بی جے پی اتحاد کو زبردست انتخابی کامیابی ہوسکتی ہے۔ تلگودیشم پارٹی کا تخمینہ ہے کہ شمالی ساحلی آندھرا کے اضلاع جیسے سریکاکلم، وجیا نگرم اور وشاکھا پٹنم میں اس اتحاد کو سبقت حاصل ہوگی۔

جنوبی ساحلی آندھرا کے اضلاع مشرقی گوداوری، مغربی گوداوری، کرشنا اور گنٹور میں بھی بہتر مظاہرہ کی توقع ہے تاہم رائلسیما کے اضلاع اننت پور اور چتور کے کچھ حصوں میں تلگودیشم ۔ بی جے پی اتحاد کو چند نشستیں حاصل ہوسکتی ہیں لیکن اضلاع کڑپہ اور کرنول میں شکست ہوسکتی ہے۔اضلاع پرکاشم اور نیلور میں تلگودیشم اور وائی ایس آر کانگریس کے درمیان سخت طاقت آزمائی کا امکان ہے۔ مجموعی رجحان سے اشارہ ملتا ہے کہ نئی ریاستی اسمبلی میں اقتدار کیلئے تلگودیشم اور وائی ایس آر کانگریس کے درمیان کانٹے کا مقابلہ ہے اور لوک سبھا انتخابات میں بھی یہی صورتحال دیکھی گئی۔سیما آندھرا میں آج 80فیصد رائے دہی ہوئی اور سہ پہر 3بجے جبکہ پولنگ جاری تھی کہ وائی ایس آر کانگریس نے ایک مہم چلاتے ہوئے یہ دعویٰ کردیا کہ اس کو130 اسمبلی حلقوں میں کامیابی حاصل ہوگی۔چنانچہ تلگودیشم پارٹی نے وائی ایس آر کانگریس کے اس دعویٰ کو محض رائے دہی کے آخری تین گھنٹوں کے دوران رائے دہی کے رجحان پر اثر انداز ہونے کے ارادہ سے کھیلا جانے والا وائی ایس آر کانگریس پارٹی کا ایک ذہنی کھیل تصور کیا اور جوابی مہم شروع کرتے ہوئے کہا کہ ’’ جگن موہن ریڈی اب تاریخ کا ایک حصہ بن چکے ہیں‘‘ کیونکہ وائی ایس آر کانگریس پارٹی شکست کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔