نریندر مودی زندہ رہنے تک کڑپہ میں اسٹیل فیاکٹری کا قیام ناممکن

تلگودیشم کے بھوک ہڑتالی کیمپ سے جے سی دیواکر ریڈی کا اظہاریگانگت، رکن راجیہ سبھا کے ریمارک سے سیاسی حلقوں میں سنسنی

حیدرآباد ۔ 23 جون (سیاست نیوز) ریاست آندھراپردیش میں سنسنی خیز ریمارکس کے ذریعہ ہمیشہ شہ سرخیوں میں رہنے کے عادی سینئر قائد تلگودیشم پارٹی و رکن پارلیمان (لوک سبھا) اننت پور مسٹر جے سی دیواکر ریڈی نے آج وزیراعظم نریندر مودی کے تعلق سے سخت ریمارکس کرتے ہوئے سیاسی حلقوں میں سنسنی پھیلادی۔ دیواکر ریڈی نے سخت الفاظ میں کہا کہ نریندر مودی کے زندہ رہنے تک کڑپہ ضلع میں اسٹیل فیاکٹری کی منظوری ہرگز ممکن نہیں ہوگی۔ کڑپہ میں ضلع پریشد آفس کے روبرو ضلع میں اسٹیل فیاکٹری قائم کرنے کے مطالبہ پر سینئر قائد تلگودیشم پارٹی و رکن پارلیمان (راجیہ سبھا) مسٹر سی ایم رمیش کی جاری غیرمعینہ بھوک ہڑتال کیمپ پہنچ کر پارٹی کے 12 ارکان پارلیمان پہنچ کر اظہاریگانگت کیا۔ اس موقع پر دیواکر ریڈی کی جانب سے مودی کے تعلق سے کئے گئے ریمارکس ایک طرف تلگودیشم میں اور دوسری طرف عوام میں موضوع بحث بن گئے۔ انہوں نے کہا کہ میرے دوست مسٹر سی ایم رمیش بھوک ہڑتال کرنے پر میں یہاں آیا ہوں لیکن ان کی ستائش یا مبارکباد دینے نہیں آیا ہوں۔ تاہم مسٹر جے سی دیواکر ریڈی نے کہا کہ رمیش! کیوں باوا۔ یہ غیرمعینہ مدت کی بھوک ہڑتال۔ میری بات سنو، صحت کیوں خراب کر لے رہے ہیں۔ ابھی بھی اپنی اس جاری غیرمعینہ مدت کی بھوک ہڑتال ختم کردو۔ آیا ضلع کڑپہ میں اسٹیل فیاکٹری قائم ہونے کا تصور کررہے ہو؟ نریندر مودی بقیدحیات رہنے تک وہ فیاکٹری قائم ہونے نہیں دیں گے اور کہا کہ پانچ کروڑ آندھرائی عوام نے ریاست کی تقسیم نہ کرنے کا مطالبہ کیا تھا لیکن اس وقت کی حکومت نے اس مطالبہ کو نظرانداز کردیا تھا۔ یہ مسئلہ بھی ایسا ہی ہے اور تم کتنے ہی دن تک غیرمعینہ مدت کی بھوک ہڑتال کریں، کچھ بھی حاصل ہونے والا نہیں ہے۔ رکن پارلیمان نے مزید کہا کہ وشاکھا اسٹیل ہمارا حق ہونے کا اظہار کرتے ہوئے اس وقت ستیہ گرہ کرتے ہوئے بند بھی منظم کئے گئے تھے۔ اس وقت کی حکومتیں الگ تھیں اور آج کی حکومتیں الگ ہیں۔ مرکزی بی جے پی حکومت کے اختیار کردہ رویہ کو دیکھتے ہوئے اسٹیل فیاکٹری کے قیام کی ہرگز کوئی امید نہیں رکھی جاسکے گی۔ کچھ بھی نہیں ہوگا۔ ہم اگر مرنے کا بھی اظہار کردیں تو بھی کوئی توجہ دینے والا نہیں ہے کیونکہ وزیراعظم میں حسد، غرور، انتقام لینے کے رویہ میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے سخت لہجہ میں کہا کہ صدر تلگودیشم چندرا بابو نائیڈو نے نریندر مودی کے ساتھ انتخابی مفاہمت کرکے بہت بڑی غلطی کی ہے۔ جے سی دیواکر ریڈی نے کہا کہ ہم چندرا بابو نائیڈو وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہونے کے خواہشمند ہیں تو وہ (چندرا بابو) سوائے آندھراپردیش کے کوئی اور عہدہ نہیں چاہتے ہیں اور صرف آندھراپردیش میں ہی رہنے کا اظہار کررہے ہیں۔