کٹھمنڈو۔ 27 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی اور پاکستانی ہم منصب نواز شریف نے ایک دوسرے کو نظرانداز کرنے کے دوسرے دن آج دو مرتبہ نہ صرف مصافحہ کیا بلکہ خیرسگالی ملاقات بھی کی۔ 18 ویں سارک چوٹی اجلاس میں دونوں وزرائے اعظم کو باہمی تبادلہ خیال اور مسکراتے ہوئے دیکھا گیا۔ اجلاس کے اختتام پر فوٹو سیشن کے دوران پہلی ملاقات ہوئی اور دوسری ملاقات تفریح گاہ میں ہوئی۔ بتایا جاتا ہے کہ نواز شریف نے نریندر مودی سے کہا کہ عوام کو دونوں حکومتوں سے کافی توقعات وابستہ ہیں۔ ان دونوں کی ملاقات کا سارک قائدین نے تالیوںکی گونج میں خیرمقدم کیا اور سارک چوٹی اجلاس کے اختتام پر خوشگوار ماحول دیکھا گیا۔ بعدازاں وزارتِ اُمور خارجہ کے ترجمان سید اکبرالدین نے دونوں وزرائے اعظم کے مصافحہ کی تصویر ٹوئٹر پر اَپ لوڈ کرتے ہوئے یہ کیپشن لکھا کہ ’’تصویر جس کا انتظار تھا‘‘۔ قبل ازیں نریندر مودی نے نواز شریف کی تقریر کے اختتام پر مسکراتے ہوئے اور تالیوں کے ساتھ خیرسگالی کا مظاہرہ کیا۔
پاکستان آئندہ سارک چوٹی اجلاس کا میزبان ہوگا جو آئندہ سال اسلام آباد میں منعقد ہوگی اور اس کیلئے نواز شریف نے سب کا شکریہ ادا کیا۔ نریندر مودی نے نہ صرف بلکہ پاکستانی صحافیوں سے بھی مصافحہ کیا اور جب ان سے پاکستان کے دورہ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کسی تبصرہ سے گریز کیا اور صرف مسکرایا۔ بعدازاں اکبرالدین ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ہندوستان پڑوسی ملک پاکستان کے ساتھ بامقصد مذاکرات میں دلچسپی رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آج کی ملاقات دونوں پڑوسی ممالک کے مابین پُرامن اور باہمی روابط کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوتی ہے تو ہندوستان اس کا خیرمقدم کرے گا۔ سمجھا جاتا ہے کہ وزیراعظم نیپال سشیل کوئرالا نے ثالثی کا رول ادا کیا۔ انہوں نے دونوں وزرائے اعظم کو کم از کم غیررسمی طور پر ایک دوسرے سے بات چیت کرنے کی ترغیب دی۔ ہندوستان اور پاکستان کے مابین باہمی مذاکرات اس وقت منقطع ہیں۔
سارک چوٹی کانفرنس کا اختتام
توانائی معاہدہ پر دستخط
٭ سارک چوٹی کانفرنس میں توانائی شعبہ میں تعاون کے لئے ایک فریم ورک معاہدہ تیار کیا گیا جس پر آج تمام ملکوں نے دستخط کی۔ لیکن کانفرنس میں دیرینہ موٹر وہیکل اور ریلوے معاہدوں کو قطعیت نہیں دی جاسکی۔ اس کے علاوہ عوام سے عوام کے رابطے اور اشیاء کی نقل و حرکت کا معاہدہ بھی نہیں کیا جاسکا۔ پاکستان کی جانب سے شدید اعتراض کے باعث ان معاہدوں کو پورا نہیں کیا گیا۔ اس سلسلہ میں پاکستان کو ترغیب دینے کی پرزور کوشش کی گئی لیکن پاکستان اپنے موقف پر اٹل رہا۔ سارک ملکوں نے ان معاہدوں کی منظوری کے لئے تین ماہ کی مہلت رکھی ہے۔ معاہدوں پر دستخط کرانے میں ناکامی کا اثر نیپالی قائدین پر نمایاں دیکھا جارہا تھا کہ قائدین اپنی چوٹی کانفرنس کو کامیاب بنانا چاہتے تھے۔ پاکستان نے بعض معاہدوں کی شدید مخالفت کی۔ سارک علاقہ میں ٹرانسپورٹ کے رابطہ کو یقینی بنانے کا معاہدہ بھی شامل تھا۔
مودی نے برگد کا پودا لگایا
٭ وزیراعظم نریندر مودی نے آج سارک چوٹی کانفرنس کے اختتام پر کھٹمنڈو کے قریب ایک تفریح گاہ میں برگد کا پودا لگایا۔ دھولخیل میں تمام سارک رکن ملکوں کے قائدین موجود تھے۔ یہ ایک سیاحتی مقام ہے۔ وزیر خارجہ سشما سوراج نے مودی کی جانب سے لگائے گئے پودے کو پانی دیا۔ سارک قائدین نے دارالحکومت سے 30 کیلو میرٹ دور اس تفریح گاہ پر ملاقات کی تھی۔ نیپال پر وزیراعظم بنگلہ دیش شیخ حسینہ موجود نہیں تھیں کیوں کہ ان کی مزاج نا ساز بتائی گئی ہے۔
شرکاء کی نیپالی ڈیشیس سے تواضع
٭ سارک چوٹی کانفرنس کے شرکاء کیلئے ظہرانہ ترتیب دیا گیا تھا۔ میزبان ملک نیپال نے اس ظہرانہ میں روایتی نیپالی تھالی سے لے کر گجراتی باسوندی معہ جلیبی پیش کی۔ تمام سربراہان مملکت اور حکمرانوں نے زرد رنگ کا رومال اپنے گلے میں ڈالا تھا۔ تمام نے مل کر تصویر کشی بھی کی۔ مہمانوں کو نیپال کا مشہور ٹاٹوں کا اچار بھی پیش کیا گیا تھا۔