انٹرنیشنل نرسیس ڈے پر جاری ریسرچ پیپر میں انکشاف
حیدرآباد 13 مئی (سیاست نیوز) ویسے تو دباؤ ہر پروفیشن میں ہوتا ہے لیکن ہیلت انڈسٹری کے پروفیشنلس بالخصوص نرسیس میں یہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ ہفتہ کو انٹرنیشنل نرسیس ڈے کے موقع پر جاری کئے گئے ایک حالیہ ریسرچ پیپر میں یہ بات کہی گئی۔ دباؤ اکیسویں صدی کا ایک مرض بن گیا ہے جسے عام طور پر زندگی کی مصروفیات کے باعث نظرانداز کیا جاتا ہے۔ تاہم ورلڈ ہیلت آرگنائزیشن (WHO) نے یہ اندازہ لگایا ہے کہ دباؤ سے متعلق امراض 2020 تک معذوری کی اہم وجہ ہوں گی۔ یہ ریسرچ پیپر کو ڈاکٹر راجہ امر ناتھ پروفیسر ڈپارٹمنٹ آف پلمونولوجی اینڈ کریٹیکل کیر سری بالاجی میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل، سینئر کنسلٹنٹ اپولو ہاسپٹلس چینائی اور دوسروں نے تیار کیا جس میں کہا گیا کہ دباؤ پر قابو پانے کے لئے میڈیٹیشن مؤثر ثابت ہوسکتا ہے۔ انھوں نے مشورہ دیا کہ نرسنگ کالجس کے نصاب میں میڈیٹیشن کو شامل کرنے پر توجہ دی جانی چاہئے۔ یہ اسٹڈی ایک نرسنگ کالج میں منعقد کی گئی جس میں 120 طلبہ نے تین گھنٹوں کے ہارٹ فل نیس میڈیٹیشن ورکشاپ میں حصہ لیا۔ اس اسٹڈی پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر امرناتھ نے جو ہارٹ فل نیس ٹرینر بھی ہیں، کہاکہ ہندوستان اور یوکے میں کی گئی کئی اسٹڈیز سے یہ معلوم ہوا کہ نرسنگ طلبہ میں دیگر ڈسپلینس کے طلبہ کے مقابل زیادہ دباؤ ہوتا ہے۔