نتن یاہو اسرائیل میں قبل از وقت انتخابات کرواسکتے ہیں ؟

یروشلم ۔ 11 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم اسرائیل بنجامن نتن یاہو کی حکومت ایسا معلوم ہوتا ہیکہ عنقریب گرنے والی ہے کیونکہ ان کے خلاف بدعنوانیوں کے جو معاملات سامنے آئے ہیں اور جن کی تحقیقات بھی کی جارہی ہے، نے ان کے کچھ سابق وزراء کو بھی ناراض کردیا ہے۔ یہ بھی کہا جارہا ہیکہ ان حالات کے پس منظر میں نتن یاہو آئندہ ہفتہ انتخابات منعقد کروائے جانے کا اعلان بھی کرسکتے ہیں جب پارلیمنٹ اپنی گرمائی تعطیلات کے بعد دوبارہ سیشن کا آغاز کرے گی حالانکہ اس تعلق سے اب تک کوئی واضح صورتحال سامنے نہیں آئی ہے۔ تاہم یہ کہا جارہا ہیکہ میعاد سے ایک سال قبل ہی انتخابات منعقد کروائے جاسکتے ہیں۔ کم از کم اس وقت اگر انتخابات منعقد کروائے جاتے ہیں تو اس بات کو یقینی سمجھا جارہا ہیکہ نتن یاہو اس میں کامیابی حاصل کرتے ہوئے اسرائیل کے سب سے زیادہ طویل مدت تک برسراقتدار رہنے والے قائدین میں شامل ہوجائیں گے اور امریکی صدر ٹرمپ سے بھی ان کے تعلقات مزید مستحکم ہوجائیں گے لیکن اس راستے پر ان کیلئے فی الحال سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ بدعنوانیوں کے خلاف کی جانے والی تحقیقات جہاں جلد ہی ان پر فردجرم بھی عائد کی جانے والی ہے۔