نبراسکا میں سزائے موت برخاست کرنے کا بل منظور

واشنگٹن۔21مئی ( سیاست ڈاٹ کام) نبراسکا میں قانون سازوں نے سزائے موت کو کالعدم کرنے کے حق میں ووٹ دیا اور اس طرح ایک ایسے بل کو قانون کی شکل مل گئی جس کے تحت سزائے موت کو اب عمر قید کی سزا میں تبدیل کردیا جائے گا حالانکہ ری پبلکن گورنر پیٹ ریکٹیس نے بارہا یہ اپیل کی کہ سزائے موت کو برخاست نہ کیا جائے تاہم ان کی اپیل نقادخانے میں طوطی کی آواز ثابت ہوئی ۔ نبراسکا کی سینیٹ نے فوری اثر کے ساتھ سزائے موت کو ختم کرنے کے حق میں ووٹ دیا ۔ اس طرح اب ایسے قیدی جو نبراسکا کی جیلوں میں سزائے موت پر عمل آوری کے منتظر ہیں ان کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا جائے گا ۔ 32سنیٹرس نے سزائے موت کے خلاف ووٹ دیا جبکہ 15سینیٹرس نے اس کی تائید کی تھی جس پر دو گھنٹہ طویل مباحثہ ہوا تھا ۔ قبلازیں 17اپریل کو بھی یہی بل پیش کیا گیا تھا اور اس وقت بھی 34سینیٹرس نے اس کے خلاف اور 14سینیٹرس نے سزائے موت کی تائید میں ووٹ دیا تھا ۔

بہرحال ریکیٹس کے پاس مزید پانچ دن ہیں تاہم یہ قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ وہ اس فیصلہ کو ویٹو کرنے کا اختیار رکھتے ہیں حالانکہ انہوں نے بل کی منظوری سے قبل سینیٹرس سے بارہا یہ اپیل کی تھی نبراسکا میں سزائے موت کو باقی رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح اور دنیا بھر میں جاری دہشت گردی نے مجرمانہ ذہنیت کے لوگوں کے حوصلے بڑھا دیئے ہیں لہذا انہیں سبق سکھانے کیلئے سزائے موت برقرار رکھنا ضروری ہے ۔ انہوں نے اس سلسلہ میں پاکستان کی مثال دی جہاں گذشتہ سال ڈسمبر میں طالبان کے ذریعہ ایک فوجی اسکول پر حملہ کے بعد سزائے موت پر عائد امتناع برخاست کردیا گیا تھا ۔ اس حملے میں زائد از 150 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں اکثریت طلبہ کی تھی ۔ پاکستان نے سزائے موت کو برخاست کرتے ہوئے سزائے موت پانے والے تمام مجرمین کو سزاؤں پر یکے بعد دیگرے عمل آوری شروع کردی ہے جس کا سلسلہ اب بھی جاری ہے ۔