ناگیندر کی سیاسی دل بدلی نئی بات نہیں، گذشتہ دو سال سے ٹی آر ایس سے ربط ، کانگریس میں عدم انصاف رسانی کا الزام مضحکہ خیز

کانگریس قائد کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی کا ردعمل

حیدرآباد ۔ 23 جون (سیاست نیوز) کانگریس کے سینئر قائد کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے کہا کہ ڈی ناگیندر کا مستعفی ہوجانا کوئی چونکا دینے والی بات نہیں ہے۔ گذشتہ 2 سال سے ناگیندر ٹی آر ایس سے رابطے میں ہے۔ ان کے پارٹی چھوڑنے سے کانگریس کو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ ایک پریس نوٹ جاری کرتے ہوئے کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے کہا کہ ماضی میں بھی ٹی آر ایس میں شامل ہونے کیلئے شہر کے اہم مقامات پر ناگیندر نے بڑے بڑے فلیکسی لگائے تھے۔ چیف منسٹر کے سی آر کی جانب سے استقبال کرنے سے انکار کرنے پر اپنا فیصلہ تبدیل کرلیا تھا۔ پارٹیاں تبدیل کرنا ڈی ناگیندر کیلئے کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ماضی میں وہ تلگودیشم میں بھی شامل ہوچکے تھے۔ دوبارہ کانگریس میں شامل ہوکر وزیر بنے۔ اب کانگریس پارٹی میں بی سی طبقات کے ساتھ انصاف نہ ہونے کا جو الزام عائد کیا ہے وہ مضحکہ خیز ہے۔ اپنے شخصی ایجنڈے پر عمل کرنے کیلئے کانگریس سے مستعفی ہوکر ٹی آر ایس میں شامل ہونے کا ڈی ناگیندر نے فیصلہ کیا ہے۔ ان کے پارٹی چھوڑنے پر زیادہ اہمیت دینے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ دلبدل ذہنیت رکھنے والے قائد کو منانے ان کے گھر جانے کا صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی نے جو فیصلہ کیا تھا وہ بھی درست نہیں تھا۔ ڈی ناگیندر کی اتنی اہمیت نہیں ہے جتنی دی جارہی ہے۔ دلت کو چیف منسٹر بنانے کے وعدہ سے کے سی آر نے انحراف کیا۔ بی سی طبقات کو کابینہ میں کوئی زیادہ اہمیت نہیں دی گئی۔ خواتین کو بالکل ہی نظرانداز کردیا گیا جبکہ کانگریس کے دورحکومت میں خواتین کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی۔ کانگریس کے دورحکومت میں ہی دلتوں، بی سی طبقات، قبائلوں اور اقلیتوں کو اہمیت دی گئی۔ کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی نے پارٹی قائدین و کارکنوں کو مشورہ دیا کہ وہ افسوس نہ کریں۔ مستقبل میں کانگریس کی ہی حکومت قائم ہوگی۔