ناگپور جیل میں محروس پروفیسر جی این سائی باباکو فوری رہا کرنے کا مطالبہ

ورا ورا راؤ ، این نارائنا اور اہلیہ سائی بابا کی پریس کانفرنس
حیدرآباد ۔ 16 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز) : سیول لبرٹیز کمیٹی نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ناگپور جیل میں غیر قانونی طور پر محروس رکھے گئے پروفیسر جی این سائی بابا کو فوری طور پر غیر مشروط رہا کردیا جائے ۔ بصورت دیگر بڑے پیمانے پر احتجاج منظم کئے جائیں گے ۔ آج یہاں انقلابی ادیب و سیول لبرٹیز قائد پروفیسر ورا ورا راؤ ، جوائنٹ سکریٹری سیول لبرٹیز کمیٹی مسٹر این نارائنا راؤ ، اہلیہ پروفیسر سائی بابا شریمتی وسنتا نے پریس کانفرنس میں یہ بات بتائی ۔ انہوں نے بتایا کہ پروفیسر سائی بابا جو 90 فیصد جسمانی طور پر معذور رہنے کے علاوہ وہ کئی مہلک امراض میں مبتلا ہیں اس کے باوجود پولیس کی جانب سے ان پر غیر ضروری الزامات عائد کرتے ہوئے انہیں گرفتار کر کے ناگپور جیل میں محروس رکھا گیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ پروفیسر سائی بابا کو نہ صرف جیل میں محروس رکھا گیا ہے بلکہ جیل میں انہیں مناسب غذا کی فراہمی کے علاوہ انہیں درکار ادویات کی فراہمی میں تساہل برتا جارہا ہے اور نہ ہی انہیں ضمانت پر رہا کیا جارہا ہے بلکہ انہیں رہا کرنے سے متعلق پیش کی جانے والی ضمانت کی درخواست کو مسترد کردیا جارہا ہے اور انہیں جیل ہی میں مبینہ طور پر ہلاک کردئیے جانے کی سازش کی جارہی ہے جس کے نتیجہ میں پروفیسر سائی بابا ان کے ساتھ کی جانے والی زیادتیوں اور نا انصافیوں کے خلاف جیل میں 11 اپریل سے بھوک ہڑتال کا آغاز کردیا ہے جب کہ پروفیسر سائی بابا کو روزانہ 15 قسم کی ادویات کا استعمال لازمی ہے اور وہ 90 فیصد معذور بھی ہیں جنہیں ہر روز فزیوتھراپی کی ضرورت پڑتی ہے ۔ انہوں نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ پروفیسر سائی بابا کو فوری رہا کرتے ہوئے ان پر عائد کردہ بے بنیاد الزامات سے دستبرداری اختیار کرلی جائے ۔ اس موقع پر پروفیسر لکشمی نارائنا ، مسرز روی چندرا ، این کرشنا ، بی رویندر ، کوٹیشور راؤ ، شریمتی دیویندر بھی موجود تھے ۔۔