دونوں چیف منسٹرس کو تنازعہ کا حل نکالنے کا مشورہ، کے جاناریڈی
حیدرآباد ۔ 14 فبروری (سیاست نیوز) قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز اسمبلی و کانگریس قائد مسٹر کے جاناریڈی نے ناگرجنا ساگر ڈیم پر تلنگانہ اور آندھراپردیش پولیس کے ایک دوسرے پر حملہ کرنے پر سخت مذمت کرتے ہوئے دونوں ریاستوں کے چیف منسٹرس کو مذاکرات کرتے ہوئے تنازعہ کو حل کرنے کا مشورہ دیا۔ مرکز کی خاموشی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے تلنگانہ کے مفادات کا تحفظ کرنے کیلئے کل جماعتی اجلاس طلب کرنے کا ٹی آر ایس حکومت سے مطالبہ کیا۔ آج اپنے چیمبر سی ایل پی آفس اسمبلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر کے جاناریڈی نے کہا کہ دونوں تلگو ریاستوں کی پولیس کا ایک دوسرے پر حملہ کرلینا اور عہدیداروں کا الجھنا بڑی شرمندگی کی بات ہے۔ مذاکرات سے بڑے بڑے مسائل حل ہوسکتے ہیں بشرطیکہ انانیت چھوڑ کر دونوں ریاستوں کے چیف منسٹر ایک دوسرے سے بات کریں۔ انہوں نے مرکزی حکومت کی تماش بینی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ مرکز بڑے بھائی کا رول ادا کرتے ہوئے دونوں ریاستوں کے درمیان پانی کا جو تنازعہ پیدا ہوا ہے اس کو حل کرنے کی کوشش کرے مگر مرکز کا رویہ مایوس کن ہے۔ مرکز نے دونوں ریاستوں کو خود مسئلہ کا حل نکالتے ہوئے تنازعہ کو دور کرنے کا جو مشورہ دیا ہے وہ قابل مذمت ہے۔ مرکز کرشنا ٹریبونل بورڈ کو مکمل اختیارات دے۔ چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندرشیکھر راؤ اور چیف منسٹر آندھراپردیش مسٹر این چندرا بابو نائیڈو کی پالیسیوں پر سخت اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ تنازعہ کی یکسوئی میں دونوں بھی سنجیدہ نہیں ہیں اپنی اپنی ریاستوں کے عوام کو گمراہ کرنے کیلئے مسئلہ پر مگرمچھ کے آنسو بہا رہے ہیں۔ دونوں چیف منسٹرس مرکز پر دباؤ ڈالنے میں پوری طرح ناکام ہوچکے ہیں۔ مسٹر کے جاناریڈی نے اس مسئلہ پر غور کرنے کیلئے فوری طور پر تلنگانہ میں کل جماعتی اجلاس طلب کرنے اور کل جماعتی اجلاس کے ارکان کو دہلی لے جا کر وزیراعظم سے نمائندگی کرنے کا مشورہ دیا تبھی جاکر مسئلہ کی یکسوئی ہوسکتی ہے۔