نامزد عہدوں پر تقررات کیلئے چیف منسٹر کا عہدیداروں کیساتھ مشاورت

قائدین و کارکنوں کی بے چینی دور کرنے کی مساعی، چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر کی خصوصی توجہ مرکوز
حیدرآباد۔/17اکٹوبر، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اسمبلی بجٹ اجلاس کے بعد سرکاری اقلیتی اداروں پر تقررات کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ چیف منسٹر کے قریبی ذرائع نے بتایا کہ چندر شیکھر راؤ نے ڈسمبر سے قبل نامزد عہدوں پر تقررات کا آغاز کرنے عہدیداروں سے مشاورت کا آغاز کیا ہے۔ چیف منسٹر کا احساس ہے کہ حکومت کے چار ماہ مکمل ہونے کے باوجود نامزد عہدوں پر تقررات میں تاخیر سے قائدین اور کارکنوں میں مایوسی پیدا ہوسکتی ہے۔ پارٹی قائدین گزشتہ 14برسوں سے تلنگانہ جدوجہد میں شامل رہے اور حکومت کی تشکیل کے بعد ان میں سرکاری عہدہ پر نامزدگی کی امید جاگی ہے لہذا چیف منسٹر نے ڈسمبر سے قبل اقلیتی اداروں پر تقررات کا مرحلہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اردو اکیڈیمی، اقلیتی فینانس کارپوریشن، اقلیتی کمیشن اور وقف بورڈ کی تقسیم ابھی باقی ہے لہذا ان اداروں پر تقررات میں تاخیر ہوئی۔ اگرچہ ریاستی حج کمیٹی کی تقسیم کا عمل مکمل کرلیا گیا ہے تاہم حج سیزن اور حج کیمپ کے پیش نظر صدرنشین اور ارکان کے تقررات نہیں کئے گئے۔ دونوں ریاستوں میں تمام سرکاری اداروں کی تقسیم میں تاخیر ٹی آر ایس حکومت کیلئے تقررات کے عمل میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ اقلیتی اداروں کی تقسیم کا عمل جلد شروع کریں تاکہ ان پر تقررات کئے جاسکیں۔ چیف منسٹر نے پہلے ہی اہم عہدوں کے سلسلہ میں بعض قائدین سے وعدہ کیا تھا جس کی بنیاد پر وہ قائدین وقفہ وقفہ سے چیف منسٹر اور ان کے عہدیداروں کے دفتر کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ جب تک اداروں کی دونوں ریاستوں میں تقسیم کا عمل مکمل نہیں ہوتا اسوقت تک تقررات ممکن نہیں کیونکہ اس سے آندھرا پردیش حکومت کو اعتراض کا موقع مل سکتا ہے۔ اداروں کی تقسیم کا عمل جلد مکمل کرنے کیلئے چیف منسٹر نے حال ہی میں گورنر ای ایس ایل نرسمہن سے بھی نمائندگی کی۔ اقلیتی بہبود میں سکریٹری کا عہدہ طویل عرصہ تک خالی ہونے کے سبب بھی اداروں کی تقسیم سے متعلق فائیل آگے نہیں بڑھ سکی۔ توقع کی جارہی ہے کہ نامزد عہدوں پر ان قائدین کو ترجیح دی جائے گی جو 14برس تک تلنگانہ جدوجہد میں پارٹی کے ساتھ شانہ بہ شانہ شریک رہے۔ شہر کے علاوہ اضلاع سے تعلق رکھنے والے قائدین کی بھی فہرست تیار کی جارہی ہے اور ان کی قابلیت اور صلاحیت کے اعتبار سے انہیں عہدہ دیا جائے گا۔ ٹی آر ایس کے قائدین میں عہدوں کیلئے دوڑ اس قدر زیادہ ہے کہ حکومت کو تقررات میں دشواری ہوگی اسی لئے چیف منسٹر نے غیر اقلیتی سرکاری اداروں میں بھی اقلیتوں کو نمائندگی دینے کا من بنالیا ہے۔ نامزد عہدوں کیلئے بعض غیر سیاسی افراد بھی مسلسل پیروی میں ہیں اور امکان ہے کہ بعض وزراء کی تائید کے ساتھ وہ کچھ نہ کچھ عہدہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ پارٹی کے ایک سینئر قائد نے کہا کہ اگر نامزد عہدوں پر تقررات میں حقیقی کارکنوں کو نظرانداز کیا گیا تو حکومت اور پارٹی کیلئے مسائل پیدا ہوں گے۔