سیاسی کیریر کا آغاز، تلنگانہ میں پارٹی کے استحکام کا عہد، عنقریب دونوں ریاستوں کا دورہ
حیدرآباد /19 جون (سیاست نیوز) تلگودیشم ورکرس کی فلاح و بہبود کے لئے تشکیل دی گئی اسکیم کے انچارج کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے چیف منسٹر آندھرا پردیش این چندرا بابو نائیڈو کے فرزند نارا لوکیش نے بالواسطہ اپنے سیاسی کیریر کا آغاز کیا اور تلنگانہ میں پارٹی کے استحکام کو اولین ترجیح دینے کا اعلان کیا۔ واضح رہے کہ نارا لوکیش نے 2014ء کے عام انتخابات میں تلگودیشم کی انتخابی مہم چلاتے ہوئے سرگرم سیاست میں اہم رول ادا کیا ہے، تاہم اب تک انھوں نے پارٹی کا کوئی عہدہ قبول نہیں کیا۔ پچھلے کچھ دنوں سے انھوں نے جگن موہن ریڈی، کے ٹی آر اور ہریش راؤ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اپنے سیاسی وجود کا احساس دلایا، لیکن آج انھوں نے پارٹی ہیڈ کوارٹر پر اپنی نئی ذمہ داری کا جائزہ لینے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ وہ پارٹی کارکنوں کے دکھ درد میں شریک ہونا چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ انتخابی مہم کے دوران ہم نے پارٹی ورکرس کو بہت قریب سے دیکھا ہے، اسی وقت میں نے ٹھان لیا تھا کہ پارٹی کے لئے مر مٹنے والے کارکنوں کی فلاح و بہبود پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، لہذا وہ بہت جلد دونوں ریاستوں کا دورہ کریں گے اور اپنے دورے کا آغاز تلنگانہ سے کریں گے، جہاں پارٹی کارکنوں اور قائدین سے ملاقات کے بعد رائلسیما اور ساحلی آندھرا کا دورہ کریں گے۔ پارٹی میں نئی ذمہ داری سنبھالنے کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پارٹی صدر (چندرا بابو نائیڈو) سب کچھ ہیں، تاہم وہ صرف ایک کارکن کی حیثیت سے خدمات انجام دیں گے۔ جگن موہن ریڈی کے بارے میں پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ان کا خاندان گزشتہ 40 سال سے سیاست اور اقتدار میں ہے، لیکن ان پر ایک بھی بدعنوانی کا الزام نہیں ہے، جب کہ راج شیکھر ریڈی کے مختصر دور حکومت میں جگن پر کروڑہا روپئے کی بدعنوانیوں کے الزامات عائد ہوئے ہیں۔ سرمایہ داروں کو آندھرا پردیش میں سرمایہ کاری کی ترغیب دینے کے بارے میں ان کے رول پر پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ یقیناً آندھرا پردیش میں سرمایہ کاری کے لئے راغب کریں گے۔ ان کے علاوہ پارٹی کے دیگر قائدین بھی سرمایہ داروں کو سرمایہ کاری کی ترغیب دے رہے ہیں۔