ناتھورام گوڈسے ’محب وطن‘ ساکشی مہاراج کا ریمارک

نئی دہلی ۔ 11 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی رکن پارلیمنٹ ساکشی مہاراج نے آج یہ کہتے ہوئے ایک نیا تنازعہ کھڑا کردیا کہ گاندھی جی کا قاتل ناتھورام گوڈسے ایک ’’محب وطن‘‘ تھا۔ اس ریمارک پر شدید ردعمل کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا تبصرہ واپس لے لیا۔ حلقہ پارلیمان اناؤ سے تعلق رکھنے والے ساکشی مہاراج نے کہا کہ گوڈسے ایک ستم رسیدہ شخص تھا۔ اس نے غلطی سے ایسی کوئی حرکت کردی لیکن وہ مخالف قوم نہیں تھا۔ وہ ایک محب وطن تھا۔ ان کے اس ریمارکس پر تنازعہ کھڑا ہوگیا اور سخت کارروائی کا مطالبہ کیا جانے لگا جس پر انہوں نے اپنا بیان واپس لیتے ہوئے کہا کہ اسے راشٹربھکت (محب وطن) نہیں سمجھتے۔ انہوں نے شاید غلطی سے ایسا کچھ کہہ دیا ہے۔ کانگریس راجیہ سبھا رکن حسین دلوائی نے گوڈسے کے کردار کو مثبت انداز میں پیش کرنے کی کوششوں کی سخت مذمت کی اور ایسی کوششوں میں ملوث رہنے والوں کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے پارلیمنٹ کے باہر کہا کہ ایک ایسا شخص جس نے دنیا میں عدم تشدد کی مثال قائم کی اور جسے بابائے قوم کہا جاتا ہے، اسے ناتھورام گوڈسے نے ہلاک کیا ہے۔ اب بعض لوگ ناتھورام گوڈسے شوریہ دیوس 15 نومبر کو منا رہے ہیں۔

یہ بالکلیہ غلط ہے اور حکومت کو چاہئے کہ ایسے افراد کو گرفتار کرے۔ انہوں نے جاننا چاہا کہ حکومت اس مسئلہ پر خاموش کیوں ہے؟ انہوں نے کہا کہ گاندھی جی کو تمام شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والے بشمول مزدور، کسان، دلت اور خواتین قبول کرتے ہیں۔ حسین دلوائی نے کہا کہ انہوں نے چیف منسٹر کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے گاندھی جی کے خلاف مہم میں مصروف رہنے والوں کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گاندھی جی کو ہلاک کرنے والے کبھی محب وطن نہیں ہوسکتے ۔ ناتھورام گوڈسے کی تائید کرنے والوں کے خلاف حکومت کو سخت کارروائی کرنی چاہئے۔ اس دوران راجیہ سبھا میں آج ہنگامہ آرائی کے مناظر دیکھنے میں آئے جب کانگریس ارکان نے جاریہ ماہ کے اوائل میں مہاراشٹرا میں منعقدہ ایک تقریب میں ناتھورام گوڈسے کی سراہنا کئے جانے پر شدید احتجاج کیا۔ اپوزیشن ارکان کی تنقیدوں کا سامنا کررہی حکومت نے ایسے کسی پروگرام کو غلط قرار دیا جس میں گاندھی جی کے قاتلوں کی ستائش کی ہے۔ تاہم کہا کہ کسی بھی تنظیم کو بدنام نہیں کیا جانا چاہئے۔ مسئلہ پر ایوان بالا میں دو مرتبہ کارروائی ملتوی کی گئی۔