رہائی سے متعلق فوج کا بیان درست نہیں ۔ اسکول کی پرنسپل کی وضاحت
میدوگوڑی 17 اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) نائیجیریائی اسکول کے پرنسپل نے آج ان فوجی اطلاعات کی تردید کی کہ وہاں بندوق برداروں کے ذریعہ اغوا کردہ بیشتر اسکولی لڑکیاں محفوظ ہیں۔ متضاد اطلاعات پر مغویہ لڑکیوں اور طالبات کے والدین نے بھی برہمی کا اظہار کیا ہے ۔ وزارت دفاع اور حکومت نے بورنو ریاست میں یہ ادعا کیا تھا کہ بوکو حرم عسکریت پسندوں کی جانب سے ایک ثانوی اکسول سے جن 129 لڑکیوں کا آغوا کیا گیا تھا وہ محفوظ ہیں۔ وزارت دفاع کے ترجمان کرس الوکولاڈے نے کہا کہ جن لڑکیوں کو اغوا کیا گیا تھا وہ سب کی سب آٹھ کے ماسوا محفوظ ہیں۔ انہوں نے گورنمنٹ گرلز سکنڈری اسکول کے پرنسپل کے حوالے سے یہ بات کہی تھی ۔
اسکول کے پرنسپل اسابے کومبورا نے بتایا کہ فوج کی جانب سے جو اطلاع دی گئی ہے وہ درست نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بورنر کے گورنر قاسم شیٹیما نے کل جو اطلاع دی تھی کہ مغویہ لڑکیوں میں سے 14 فرار ہوگئی ہیں وہ درست نہیں ہے ۔ اسکولی لڑکیوں کے اغوا کی اس واردات پر عالمی سطح پر برہمی ظاہر کی جا رہی ہے ۔ یہ اغوا ایسے وقت کیا گیا ہے جبکہ دارالحکومت ابوجا میں چند ہی گھنٹے قبل ایک بم دھماکہ ہوا تھا جس کے نتیجہ میں کم از کم 75 افراد ہلاک ہوگئے تھے ۔ اس حملہ کیلئے بھی بوکو حرم کو ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے ۔ ایک مقامی شہری لوان زانا نے جن کی لڑکی مغویہ لڑکیوں میں شامل ہے کہا کہ فوج کیلئے ضروری ہے کہ وہ بچوں کا پتہ چلائے اور ان کو رہا کروانے کی کوشش کرے اس کی بجائے جس طرح کی جھوٹی باتیں کہی جا رہی ہیں ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں لڑکیوں کو رہا کروانے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہتک کرنے کا سب سے خطرناک انداز ہے ۔ انہوں نے کہا کہ فوج اور حکومت یہ دعوی کر رہی ہے کہ ہماری لڑکیاں رہا ہوگئی ہیں یہ غلط ہے
۔ اگر واقعی لڑکیاں رہا ہوگئی ہیں تو انہیں یہاں لایا جائے تاکہ وہ ہم سے مل سکیں۔ کہا جارہا ہے کہ بوکو حرم کی جانب سے اسکولس اور یونیورسٹیز کو اکثر نشانہ بناتے ہوئے حملے کئے جاتے ہیں اور ان کی کارروائیاں ہلاکت خیز ہوتی ہیں۔ یہ گروپ عمومی طور پر یہ اعلان کرتا ہے کہ یہاں مغربی ممالک کی تعلیم حاصل نہیں کی جانی چاہئے ۔ مغربی ملکوں کی جانب سے اکثر الزام عائد کیا جاتا ہے کہ بوکو حرم کے عسکریت پسندوں کی جانب سے کئی طلبا کو ان کے کلاس رومس میں ہی نشانہ بنایا جاتا ہے ۔ بورنر کے گورنر نے اسکولی لڑکیوں کی واپسی میں معاون ہونے والی کوئی بھی اطلاع دینے پر تین لاکھ امریکی ڈالرس کے انعام کا اعلان کیا ہے ۔ طالبات کا پتہ نہ چلنے پر ان کے والدین اور سرپرستوں میں برہمی پیدا ہوتی جا رہی ہے ۔