بی جے پی کے اعتراض پر وزارت دفاع کوالیکشن کمیشن سے حصول اجازت ‘ لیفٹننٹ جنرل دلبیرسنگھ سہاگ کی سفارش
نئی دہلی۔12مئی(سیاست ڈاٹ کام ) وزارت دفاع نے فوج کے آئندہ سربراہ کے تقرر کے عمل کو آگے بڑھانے کافیصلہ کیا ہے اور اس عہدہ کیلئے آرمی اسٹاف کے نائب سربراہ لیفٹننٹ دلبیرسنگھ سہاگ کے نام کی سفارش کی ہے ۔ وزارت دفاع نے کابینہ کی تقررات کمیٹی کو اپنی سفارش روانہ کی ہے جس سے قبل الیکشن کمیشن نے اس عمل پر پیشرفت کی اجازت دی تھی ۔ اس مسئلہ کے انتخابی ضابطہ اخلاق سے تعلق ہونے کے سبب اس کو الیکشن کمیشن سے رجوع کیا گیا تھا ۔ ذرائع نے کہاکہ سفارش میں صرف 59سالہ لیفٹننٹ جنرل سہاگ کا ایک نام ہی پیش کیا گیا تھا کیونکہ تمام لیفٹننٹ جنرلس میں وہ سب سے سینئر ہیں ۔ اب یہ وزیراعظم منموہن سنگھ کے زیرقیادت کابینہ کی تقررات کمیٹی پر منحصر ہے کہ سفارش پر کوئی فیصلہ کیا جائے ۔ سربراہ افواج جنرل بکرم سنگھ 31جولائی کو وظیفہ حسن خدمات پر سبکدوش ہوجائیں گے اور روایات کے مطابق موجودہ سربراہ کی میعاد کی تکمیل سے دو ماہ قبل ان کے جانشین کے نام کا اعلان کیا جاتا ہے ۔ نئے فوجی سربراہ کا تقرر تنازعہ کی نذر ہوگیا تھا کیونکہ بی جے پی نے اس کی سخت مخالفت کی تھی اور جلد بازی پر سوال اٹھاتے ہوئے اصرار کیا تھا کہ سارا معاملہ نئی حکومت پر چھوڑ دیا جائے کیونکہ فیصلہ ہنوز کافی وقت باقی ہے ۔
قبل ازیں الیکشن کمیشن نے آج دن میں وزارت دفاع کو ایک مراسلہ روانہ کرتیہ وئے عمل پر پیشرفت جاری رکھنے کی اجازت دی تھی ۔ ذرائع نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے 27مارچ کو جاری کردہ اپنے حکم کا حوالہ دیا جس میں واضح کردیا گیا ہے کہ دفاعی فورسیس میں تقررات ‘ ترقیاں ‘ ٹنڈرس اور خریداری کا رواں انتخابات یا مستقبل کے انتخابات کے موقع پر نافذ انتخابی ضابطہ اخلاق کے تحت احاطہ نہیں کیا جاسکتا ۔ الیکشن کمیشن نے وزارت دفاع کے حوالہ کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت چاہتی ہے کہ وہ فوج کے آئندہ چیف آف اسٹاف کے تقرر کے عمل پر پیشرفت کرسکتی ہے ۔ تاہم نئی فوجی سربراہ کے تقرر کے معاملہ میں سبکدوش شدنی حکومت کے سیاسی جواز پر بی جے پی فی الفور سوالات اٹھائی ۔ بی جے پی کے لیڈر روی شنکر پرساد نے کہا کہ ’’ منموہن سنگھ حکومت کے پاس اب بمشکل 90گھنٹے رہ گئے ہیں اور نئے فوجی سربراہ کا تقرر کرنے یا جولائی میں مخلوعہ ہونے والے اس عہدہ پر تقرر کو موخر کردینے کا فیصلہ لیں ۔ اس حکومت کے سیاسی جواز پر چھوڑ دیتا ہوں‘‘ ۔ فوج کے نئے سربراہ کے تقرر پر بی جے پی کی سخت مخالفت کو ملحوظ رکھتے ہوئے حکومت نے گذشتہ ہفتہ یہ مسئلہ الیکشن کمیشن سے رجوع کیاتھا اور کہا تھا کہ اس کی اجازت کے بعد ہی عمل میں پیشرفت کی جائے گی ۔