پارکس کی قلت ، اسکولس و کالجس کا بھی فقدان ، ترقی کے میدان میں دونوں میں کافی فرق
حیدرآباد ۔ 17 ۔ اپریل : تاریخی شہر حیدرآباد کا ماضی جتنا شاندار رہا ہے اس کا مستقبل اتنا ہی خوفناک دکھائی دے رہا ہے کیوں کہ ایک غیر اردو میڈیا ایجنسی نے پرانے اور نئے شہر کی ترقی کا جو تقابلی جائزہ حکومتی اعداد و شمار کی روشنی میں پیش کیا اس سروے کی رپورٹ کے مطابق پرانے شہر کو بنیادی سہولیات سے یکسر محروم کردیا گیا ہے ۔ پرانے شہر میں عوام کے لیے آر ٹی سی بسوں کی ناکافی تعداد اور خدمات ، بنکس کی عدم موجودگی ، لون اور کریڈیٹ کارڈس کی عدم اجرائی ، پاسپورٹ آفس کی یہاں سے منتقلی ، گورنمنٹ اسکولس کو بند کرنے ، جونیر اور ڈگری کالجوں کی انتہائی کم تعداد اور اس طرح کے بیسوں بنیادی مسائل کی جکڑ میں پرانا شہر پوری طرح پھنس چکا ہے ۔ نئے شہر اور پرانے شہر میں عوام کے لیے بنیادی سہولیات کی فراہمی کے جائزہ پر پتہ چلتا ہے کہ نئے شہر میں جملہ 390 ایکڑ اراضی پر 684 پارکس تعمیر کئے گئے جب کہ کثیر آبادی والے شہر میں جملہ 23 ایکڑ اراضی پر صرف اور صرف 34 پارکس ہیں ۔ نئے شہر میں 3 ہزار افراد کے لیے ایک بنک جب کہ پرانے شہر میں 13 ہزار افراد کے لیے ایک بنک کام کرتا ہے ۔ پرانے شہر میں جہاں چند برس قبل کئی سرکاری دفاتر فعال تھے لیکن آج کہیں کہیں برائے نام کوئی سرکاری دفتر دکھائی دیتا ہے ۔ پرانے شہر کے کثیر عوام کے لیے پہلے آصف نگر پر پاسپورٹ آفس تھا اب وہ بھی نئے شہر منتقل کردیا گیا ہے ۔ پولیس کمشنر آفس پرانی حویلی سے بشیر باغ پہنچ چکا ہے ۔ قارئین آپ کو یہ بھی یاد ہوگا کہ تاریخی یادگار چارمینار تک شہر کے اہم مقامات سے 387 بسیں پہنچتی تھیں جن کی تعداد اب صرف 203 ہوگئی ہے ۔ پرانے شہر میں سرکاری اسکولس کی تعداد کاغذ پر تو موجود ہے لیکن ان میں 60 فیصد اسکولس خانگی عمارتوں میں موجود ہیں اور حکومت کی جانب سے کرایہ کی عدم ادائیگی سے ان کے وجود کو بھی شدید خطرہ ہے جب کہ نئے شہر میں صرف 16 ایسے سرکاری اسکولس ہیں جو کہ خانگی عمارتوں میں موجود ہیں ۔ نئے شہر میں 19 جونیر اور 7 ڈگری کالجس ہیں جب کہ پرانے شہر میں صرف 5 جونیر اور ایک ڈگری کالج ہے جو کہ پرانے شہر کے طلبہ کے لیے ناکافی ہے ۔ گلی محلوں میں بسوں کی خدمات اور بس اسٹاپس کا تقابل کریں تو بلدیہ گریٹر حیدرآباد نے 1158 بس اسٹاپس تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا ہے اور اس منصوبے میں پرانے شہر کو صرف 100 بس اسٹاپس کی منظوری ملی ہے ۔ بس ڈپوز کے معاملے میں نئے شہر میں 21 اور پرانے شہر میں صرف 3 بس ڈپوز ہیں ۔ اس ضمن میں آر ٹی سی نے 100 منی بسیں خریدی تھیں جن میں صرف 33 بسیں پرانے شہر کے لیے مختص کی گئی ہیں ۔ حکومت نے اس برس شہر کے عوام سے 1100 کروڑ روپئے پراپرٹی ٹیکس وصول کیا ہے ۔ لیکن ان کے لیے بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام ہے ۔
پرانے شہر کے عوام ، بنکس ، لون ، کریڈیٹ کارڈس پاسپورٹ آفس بسوں کی سہولیات ، بس اسٹاپس ، اسکولس ، کالج ، ڈگری کالجس ، پارکس ، اسٹریٹ لائٹس ، سڑکیں ، پانی اور اس طرح بیسوں سہولیات سے محروم اور بنیادی مسائل کا سامنا کررہے ہیں ۔ اور کوئی سیاسی قائد پرانے شہر کی ترقی کے موضوع پر ووٹ مانگتا دکھائی نہیں دے رہا ہے ۔ ہر سیاسی جماعت اور لیڈر پرانے شہر کے عوام کو یہ ہی خوف دلاتا ہے کہ فلاں پارٹی سے فلاں نقصان ہے ۔ فلاں لیڈر کے اقتدار سے آپ کو فلاں شعبہ کا نقصان ہے ۔ پرانے شہر کے عوام کو خوف دلواکر ووٹ حاصل کئے جارہے ہیں جب کہ عوام کے سوالات یہ ہی ہیں کہ کوئی سیاسی قائد ان کی بستی میں بس اسٹاپ ، پارک ، بنک ، اسکول ، کالج ، پانی کا بہتر انتظام جیسے بنیادی ضروریات اور ترقی کے موضوع کی بات ہی نہیں کرتا ۔ آخر کب پرانے شہر کے بنیادی مسائل کو حل کیا جائے گا اور آخر کب پرانا شہر نئے شہر کی طرح ترقی کرے گا ؟ نئے شہر کی بہ نسبت پرانے شہر کو جان بوجھ کر ترقی سے محروم رکھا جارہا ہے ۔ ہم حکومتوں اور متعصب عہدیداروں کو ذمہ دار قرار دیتے ہیں لیکن کبھی ہمیں یہ سوچنے کی فرصت نہیں ملتی کہ شہریوں کی اکثریت حاصل ہونے کے باوجود آخر حکومت اور سرکاری ادارے ہماری آوازوں پر کیوں توجہ نہیں دیتے ۔ کیا یہ بہتر موقع نہیں ہے کہ ہم اپنے مطالبات کی تکمیل اور بنیادی حقوق کے تحفظات کے لیے اُٹھ کھڑے ہوجائیں تاکہ زندگی کے معیار کو بلند کرنے کے علاوہ نئی نسل کو ایک خوشگوار اور ترقی یافتہ ماحول فراہم کرسکیں ۔۔