واشنگٹن ، 27 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان کے نئے قاصد ایس جئے شنکر نے آج اعلیٰ امریکی عہدیداروں سے ملاقات کی اور دیویانی کھوبرگاڑے کے خلاف الزامات سے دستبرداری چاہی حالانکہ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے کہا کہ وہ مکمل سفارتی استثنیٰ کے مسئلے کا جائزہ لے رہا ہے جو بتایا جاتا ہے کہ سفارت کار کو اُن کی گرفتاری کے وقت حاصل تھا۔ جئے شنکر جنھوں نے دیویانی کی گرفتاری پر ہندوستان کے سخت احتجاج سے واقف کرایا، انھوں نے اس رویہ پر بھی سخت اعتراض کیا جس طرح امریکی حکومت نے ہندوستانی شہریوں کا تخلیہ کرایا ہے۔ دفتر چیف آف پروٹوکول کو اپنے کاغذات تقرر کی نقول پیش کرنے کے فوری بعد انھوں نے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے نائب وزیر برائے سیاسی امور وینڈی شرمن اور نائب وزیر برائے انتظامیہ پیٹرک ایف کنیڈی سے ملاقات کی۔
دونوں ملاقاتوں میں اس ماہ کے اوائل نیویارک میں 39 سالہ دیویانی کی گرفتاری کا مسئلہ چھایا رہا، جو نیویارک میں نائب قونصل جنرل تھیں۔ ان کا بعدازاں اقوام متحدہ کو تبادلہ کردیا گیا جو انھیں مکمل سفارتی استثنیٰ دلانے کی سعی ہے۔ ذرائع نے کہا کہ جئے شنکر نے میٹنگ کے دوران سمجھا جاتا ہے کہ دیویانی کے خلاف عائد الزامات سے دستبرداری چاہی، اور جس انداز میں امریکی حکومت نے ہندوستانی شہریوں …ہندوستانی سفارت کار کی ملازمہ کے ارکان خاندان… کا تخلیہ ہندوستان کے عدالتی اختیار اعلیٰ کی وقعت گھٹاتے ہوئے کرایا’ اس پر سخت اعتراض کیا ہے۔ ان میٹنگس کی کوئی دیگر تفصیلات دستیاب نہیں ہوئی ہیں۔