نئی پاکستانی حکومت سے محفوظ و مستحکم جنوبی ایشیا کیلئے کام کی امید

دہشت و تشدد سے پاک جنوبی ایشیا کی تعمیر ضروری ۔ پاکستان میں عام انتخابات پر ہندوستان کا اولین رد عمل

نئی دہلی 28 جولائی ( سیاست ڈاٹ کام ) پاکستان میںعام انتخابات پر اپنے اولین رد عمل میں ہندوستان نے آج اس امید کا اظہار کیا کہ پڑوسی ملک میں نئی حکومت ایک محفوظ ‘ مستحکم اور سلامتی والے جنوبی ایشیا کی تعمیر کیلئے کام کریگی جو دہشت گردی اور تشدد سے پاک ہوگا ۔ وزارت خارجہ میں ترجمان رویش کمارنے کہا کہ ہندوستان چاہتا ہے کہ ایک خوشحال اور ترقی پذیر پاکستان اپنے پڑوسیوں کے ساتھ امن سے رہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان خیر مقدم کرتا ہے کہ پاکستان کے عوام نے عام انتخابات کے ذریعہ جمہوریت میں اپنے یقین کا اظہار کیا ہے ۔ انہوںن ے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ پاکستان میں قائم ہونے والی نئی حکومت ایک محفوظ ‘ مستحکم اور سلامتی والے جنوبی ایشیا کو بنانے میں تعمیری انداز میں کام کریگی اور وہ جنوبی ایشیا کو دہشت گردی اور تشدد سے پاک بنائے گی ۔ کرکٹر سے سیاستدان بننے والے عمران خان امید ہے کہ پاکستان کے آئندہ وزیر اعظم ہونگے کیونکہ ان کی پارٹی پاکستان تحریک انصاف عام انتخابات میں سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے جو 25 جولائی کو منعقد ہوئے تھے ۔ 270 نشستوں میں پی ٹی آئی کو 116 پر کامیابی حاصل ہوئی ہے ۔ جیل میں قید سابق وزیر اعظم نواز شریف کی پاکستان مسلم لیگ ( ن ) 64 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر اور سابق صدر آصف علی زرداری کی پاکستان پیپلز پارٹی 43 نشستوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہی ہے ۔ انتخابی نتائج میں جمعرات سے ہی اشارے ملنے شروع ہوگئے تھے کہ عمران خان کی پارٹی واحد بڑی جماعت بن کر ابھری تھی ۔ اس موقع پر عمران خان نے واضح کیا تھا کہ پاکستان ہندوستان کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کیلئے تیار ہے اور ان کی حکومت چاہتی ہے کہ دونوں ملکوں کے قائدین تمام تنازعات کو بات چیت کے ذریعہ حل کریں ۔ انہوں نے کہا تھا کہ مسئلہ کشمیر کا بھی بات چیت کے ذریعہ حل دریافت ہونا چاہئے۔ عمران خان نے کہا تھا کہ ہندوستان اگر ایک قدم آگے آئیگا تو ہم دو قدم آگے آئیں گے لیکن سب سے پہلے اس سمت میں کسی پہل کی ضرورت ہے ۔ سرحد پار دہشت گردی کے مسئلہ سے دونوں ملکوں کے مابین تعلقات گذشتہ چند برسوں میں بری طرح متاثر ہوئے ہیں ۔ پاکستانی سرزمین سے کام کرنے والے گروپس کی جانب سے ہندوستان میں کئی فوجی ٹھکانوں پر حملوں کے بعد تعلقات مزید بگڑ گئے تھے ۔ ہندوستان نے بارہا کہا ہے کہ پاکستان کو چاہئے کہ وہ اپنی سرزمین سے ہندوستان کے خلاف دہشت گردانہ سرگرمیوں کو بند کرے تاکہ دونوں ملکوں کے مابین بامعنی مذاکرات شروع ہوسکیں۔ حالانکہ عمران خان نے ہندوستان کے ساتھ بات چیت کی خواہش ظاہر کی ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاملہ میں کسی بہتری کی امید کم ہے اگر عمران خان پاکستان کے وزیر اعظم بن جائیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عمران کو فوج کی تائید حاصل ہے اور وہ ہندوستان کے تعلق سے اپنی پالیسی میں شائد ہی کوئی تبدیلی کریں۔