گرمائی تعطیلات میں والدین اور سرپرست حضرات بچوں کو اردو تعلیم فراہم کرنے پر توجہ دیں
حیدرآباد۔10اپریل(سیاست نیوز) گرمائی تعطیلات کے دوران نونہالوں کو اردو کی تعلیم فراہم کرنے کے سلسلہ میں والدین اور سرپرستو ںکو توجہ دینی چاہئے کیونکہ نئی نسل کی اردو زبان سے دوری اردو اخلاقیات کے فروغ میں سب سے اہم رکاوٹ بننے لگی ہے۔ گرمائی تعطیلات کے دوران اب تک انگریزی زبان سے واقفیت کے لئے گرمائی تعطیلات کا استعمال کرنے پر توجہ دی جاتی تھی لیکن اب نئی نسل میں اخلاقیات کے فقدان کو دیکھتے ہوئے والدین اور سرپرست انہیں دینی ماحول اور اردو زبان سے واقف کروانے کی جانب متوجہ ہونے لگے ہیں اور اس بات کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اردو زبان کے ساتھ ساتھ اخلاقیات کے درس بھی دلوائے جائیں تاکہ نونہالوں میں ادب و احترام پیدا ہونے لگے ۔ انگریزی ذریعہ تعلیم کے ساتھ دین سے دوری کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے حالات کو دیکھتے ہوئے گرمائی تعطیلات کے دوران اردو اور دینی گرمائی کلاسس میں داخلوں کے حصول کے رجحان میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہاہے اور شہر کے کئی سرکردہ اسکولوں میں انتظامیہ کی جانب سے گرمائی کیمپ چلائے جانے کا اعلان کیا جا چکا ہے ۔ گرمائی کیمپ کے دوران بچوں میں کھیل کود کے علاوہ بہتر تعلیم اور دیگر زبانوں کے سیکھنے کا رجحان پایا جاتا ہے اور اگر ایسے میں اردو زبان کی تعلیم اور تربیت کے بڑے پیمانے پر انتظامات کرتے ہوئے طلبہ میں مسابقتی جذبہ پیدا کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں اردو کے فروغ میں یہ اہم قدم ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ گرمائی تعطیلات میں بچوں کو اوقات خراب کرنے سے محفوظ رکھنے کیلئے انہیں تعلیمی سرگرمیوں میں ہی مصروف رکھنے کا رجحان تیز ہوتا جا رہاہے ۔ادارہ سیاست کی جانب سے اردو کلاسس کے علاوہ دینی گرمائی کلاسس کا اہتمام کیا جاتا ہے لیکن اس کے علاوہ دیگر اداروں کی جانب سے بھی گرما کے دوران ان کلاسس کا اہتمام کیا جاتا ہے ۔ اردو زبان کے فروغ اور بچوں میں اخلاقیات و دینیات کو بڑھاوا دینے کے لئے انہیں اردو زبان سے واقف کروانا ضروری ہے کیونکہ اردو مادری زبان بول چال کی حد تک محدود ہورہی ہے اور اس زبان کو پڑھنے اور لکھنے کے ساتھ زبان کو سمجھنے کے قابل بنانے کیلئے بچوں کو خصوصی تربیت کی فراہمی ناگزیر ہے ۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اردو زبان میں اخلاقیات اور دینیات کا جو مواد موجود ہے اس مواد کی درس و تدریس کے لئے بچوں کو اردو سے واقف کروانا ضروری ہے تاکہ بچوں میں اپنے اسلاف کی تعلیمات کو منتقل کیا جاسکے۔