نئی دہلی۔ 13 اگست (سیاست ڈاٹ کام) نریندر مودی حکومت پر راست تنقید کرتے ہوئے صدر کانگریس سونیا گاندھی نے آج کہا کہ نئی حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں ’’پریشان کن حد تک‘‘ اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تعصب کی خطرناک لیکن ٹھوس علامات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فرقہ وارانہ تشدد اور فسادات کے اُترپردیش، مہاراشٹرا اور دیگر ریاستوں میں سینکڑوں واقعات پیش آچکے ہیں۔ علاوہ ازیں تعصب کی خطرناک اور ٹھوس علامتیں ظاہر ہورہی ہیں۔ وہ انتخابی ناکامی کے بعد کانگریس پارلیمانی پارٹی کے اولین اجلاس سے خطاب کررہی تھیں۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں سے کہا کہ ہمارا کام ہی ہماری خصوصیت ہے۔ سونیا گاندھی نے یہ کانگریس کے لئے چیلنج بھرا وقت ہے اور انہوں نے کارکنوں سے خواہش کی کہ حکومت کے آمرانہ اور فرقہ پرست رجحانات کا مقابلہ کریں، کیونکہ یہ کانگریس کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک چوکس اپوزیشن کا کردار ادا کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ انڈین نیشنل کانفرنس کی پالیسیوں اور اقدار کی تائید میں اُٹھ کھڑے ہونا حکومت کے آمرانہ اور فرقہ پرست رجحانات کا مقابلہ کرنا ہر کانگریسی کا فرض ہے، کیونکہ نئی حکومت پارلیمنٹ کو اپنے رنگ میں رنگ دینا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریسیوں نے اس کام کا آغاز بھی کردیا ہے۔ انہیں یقین ہے کہ زیادہ موثر انداز میں یہ کام کیا جارہا ہے۔ انہوں نے بی جے پی کی فرقہ پرستی پر تنقید میں شدت پیدا کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ جب سے بی جے پی برسراقتدار آئی ہے، فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں پریشان کن حد تک اضافہ ہوگیا ہے ،
لیکن ساتھ ہی ساتھ تعمیر نو اور عوام کے اعتماد کی بحالی کا کام کانگریس نے شروع کردیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا میں ہماری تعداد اتنی کم ہوچکی ہے کہ قبل ازیں کبھی بھی نہیں تھی، لیکن ہمارے جوش اور جذبے میں کوئی کمی نہیں آئی ہے۔ انہوں نے پارٹی کارکنوں سے کہا کہ پارلیمنٹ میں اور ملک گیر سطح پر عوامی فورموں میں کانگریس کے لئے کام کریں۔ ہمارے ذرائع ابلاغ اور سڑکوں، گھروں اور ہر عام آدمی کے ساتھ پارٹی کو ربط پیدا کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کو ہنوز لوک سبھا میں قائد اپوزیشن کا عہدہ حاصل نہیں ہوا ہے۔ غالباً حکومت کے دماغ پر گاندھی خاندان کا بھوت سوار ہے، لیکن پارلیمنٹ واحد فورم نہیں ہے جو ہمارے لئے دستیاب ہو۔ اگر ہم میں سے ہر ایک موثر کانگریسی مرد و خاتون بن جائے تو ہم بنیادی سطح سے رائے دہندوں کے ساتھ ربط پیدا کرتے ہوئے کانگریس کو برقرار رکھ سکتے اور اسے مزید مستحکم بناسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رائے دہندوں نے ہی ہمیں ہمارے موجودہ مقام پر پہچایا ہے اور وہی ہمیں اپنا پرانا مقام دوبارہ دلاسکتے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مودی حکومت نے یو پی اے کے نظریات ’’چرالئے‘‘ اور ہمارے پروگرامس ’’مستعار‘‘ حاصل کرلئے ہیں کیونکہ ان کے پاس عوام کے سامنے پیش کرنے کے لئے کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ 10 ہفتوں کے بی جے پی دور اقتدار سے ہمیں سبق مل چکا ہے کہ بی جے پی کے پاس پیش کرنے کے لئے کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ وہ صرف ہماری نقل کررہی ہے۔ اس لئے اس حکومت کو خود اس کی ناکامیاں ڈبو دیں گی۔