نئی دہلی 23 مئی (سیاست ڈاٹ کام) منسٹر آف اسٹیٹ پارلیمانی امور مختار عباس نقوی کی جانب سے بڑے جانور کا گوشت کھانے والوں کے خلاف ریمارکس کے دوران سابق سپریم کورٹ جج جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے کہا کہ وہ ہندو ہیں‘ انہوں نے بڑے جانور کا گوشت کھایاہے اور آئندہ بھی وہ یہ گوشت کھائیں گے ۔ جسٹس مارکنڈے کاٹجو نے اپنے فیس بُک پیج پر تحریر کیا کہ ’’ میں ایک ہندو ہوں اور میں نے بڑے جانور کا گوشت کھایا ہے اور آئندہ بھی کھاوں گا۔ بڑے جانور کا گوشت کھانے میںکوئی قباحت نہیں ہے۔ دنیا میں 90 فیصد لوگ بڑے جانور کا گوشت کھاتے ہیں کیا یہ سب گناہگار ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہ بھی نہیں مانتے کہ گائے مقدس ہیں یا ہماری ماں ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ ایک جانور کس طرح انسان کی ماں ہوسکتی ہے اسی لئے وہ یہ کہتے ہیں کہ 90 فیصد ہندوستانی بے وقوف ہیں ان میں مختار عباس نقوی بھی شامل ہیں۔ مختار نقوی نے دو دن قبل گاو ذبیحہ پر امتناع کی مدافعت کی تھی اور کہا تھا کہ جو لوگ بڑے جانور کا گوشت کھانا چاہتے ہیں انہیں پاکستان یا عرب ممالک کو چلے جانا چاہئے ۔ نقوی نے کہا تھا کہ یہ نفع و نقصان کا مسئلہ نہیں ۔ یہ ایک عقیدے اور یقین کا معاملہ ہے۔ یہ ہندووں کیلئے ایک حساس مسئلہ ہے ۔ مختار نقوی نے کہا تھا کہ جو لوگ بڑے جانور کا گوشت کھائے بغیر مر رہے ہیں وہ پاکستان یا عرب ممالک یا دنیا کے کسی بھی حصہ میںچلے جائیں جہاں انہیں یہ گوشت دستیاب ہے ۔ نقوی نے یہ دعوی کیا تھا کہ خود مسلمان بھی بڑے جانور کا گوشت کھانے کے مخالف ہیں۔