میں مسلمان نہیں، کافر ہوں : تسلیمہ نسرین

نئی دہلی 21 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ملعون مصنفہ تسلیمہ نسرین نے کہاکہ میں مسلمان نہیں بلکہ کافر ہوں۔ میں ہندو مذہب کی بھی مخالفت کرتی ہوں اور مجھے ہندو بھگوانوں سے نفرت ہے۔ خاص کر کڑوا چھوت اور شیوراتری جیسے تہواروں کو پسند نہیں کرتی۔ 1996 ء میں بنگلہ دیش سے فرار ہوکر ہندوستان میں پناہ لینے والی اس متنازعہ مصنفہ نے ایک انگریزی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے اپنے مخالف مذہب خیالات کی تشریح کی اور کہاکہ اسلام پر تنقید کرنے پر انتہا پسندوں نے مجھے ہلاک کرنے کی دھمکی دی تھی۔ جس کے بعد سے میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہوں۔ ان کے ملک بنگلہ دیش میں انتہا پسند ذہنیت رکھنے والوں کو غلبہ مل رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں کئی دانشوروں کو بنگلہ دیش سے خارج کردیا گیا یا انھیں ہلاک کیا گیا۔ احمد رجب حیدر ایک کافر بلاگر یا بے دین دانشور تھے جو تھایا بابا کے نام سے لکھتے تھے انھیں 2013 ء میں ایک احتجاج کے بعد ہلاک کیا گیا تھا۔ اس سال فروری میں ایک اور بے دین بلاگر اوجیت رائے کو بھی انتہا پسند تنظیموں کے کارکنوں نے ہلاک کیا ہے۔ تسلیمہ نسرین اس وقت نئی دہلی میں مقیم ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ جب مجھے 1996 ء میں ملک بدر کیا گیا تو بنگلہ دیش کا ترقی پسند طبقہ خاموش تھا۔ اگر یہ طبقہ میرے اخراج پر احتجاج کرتا تو بنگلہ دیش میں آج سچائی بیان کرنے والوں کو موت کے گھاٹ اُتارنے کا عمل کم ہوتا۔ اُنھوں نے کہاکہ سماج میں مذہب کی بنیاد پر مرد و خواتین میں مساوات کی لکیر نہیں کھینچی جانی چاہئے بلکہ مردوں کی طرح خواتین کو بھی یکساں حقوق دیئے جانے چاہئے۔ شادی، طلاق، بچہ کی پرورش اور جائیدادوں میں حصہ یا ترک بھی حاصل کرنے کا مساوی حق دیا جانا چاہئے۔ لیکن حکومت اپنے طور پر بنیاد پرستوں کو طاقتور بنارہی ہے۔ بعض مذہبی ناقدین کا تعاقب کرنے والوں کو کھلی چھوٹ دے کر معاشرہ میں ابتری پیدا کی جارہی ہے۔ مذہب کے نام پر خاتون کو سنگسار کرکے ہلاک کردیا جانا کیا یہ درست ہے۔