ممبئی ۔ 22 ۔ دسمبر : ( سیاست ڈاٹ کام) : میگا اسٹار امیتابھ بچن نے آج ایک انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ 2000 ء میں ٹیلی ویژن گیم کون بنے گا کروڑ پتی کی لانچنگ سے عین قبل ڈاکٹروں نے انہیں تپ دق ( ٹی بی ) سے متاثرہ قرار دیا تھا ۔ لیکن اس کے بعد انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور اس بیماری کا حوصلہ مندی سے مقابلہ کیا ۔ یاد رہے کہ امیتابھ بچن کو حال ہی میں برہمن ممبئی میونسپل کارپوریشن ( بی ایم سی ) کی جانب سے ٹی بی جیسی بیماری سے متعلق بیداری مہم کے لیے برانڈ ایمبسیڈر مقرر کیا گیا ہے ۔ اس مہم کا عنوان ’’ ٹی بی ہارے گا بھارت جیتے گا ‘‘ ہے ۔ اس مہم کی لانچنگ سے قبل انہوں نے انکشاف کیا کہ وہ خود بھی ٹی بی میں مبتلا رہ چکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک ایسی بیماری ہے جو کسی کو بھی لاحق ہوسکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بی ایم سی کی جانب سے پیشکش کے فوری بعد انہوں نے مہم کا حصہ بننا منظور کرلیا کیوں کہ وہ خود بھی اس بیماری کا درد سمجھتے ہیں ۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس مہم سے وابستگی دراصل عوامی خدمت ہے جو ان کے لیے قابل فخر ہے ۔ اپنے بارے میں انہوں نے بتاتے ہوئے کہا کہ وہ بہت جلد تھک جایا کرتے تھے اور ان کی بھوک بھی ختم ہوگئی تھی ۔ جب ڈاکٹرس کو بتایا گیا تو انہوں نے ٹی بی کا انکشاف کیا ۔ ٹی بی ایک قابل علاج بیماری ہے لیکن ادویات لینے کا سلسلہ درمیان میں روکنا نہیں چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ ادویات کے استعمال کے ساتھ انہوں نے کے بی سی پروگرام بغیر کسی تکلیف کے جاری رکھا ۔ بگ بی نے کہا کہ 1981 میں فلم قلی کی شوٹنگ کے دوران وہ شدید طور پر زخمی ہوگئے تھے ۔ ان کے پاس بیرون ملک علاج کروانے کے لیے وسائل موجود تھے لیکن انہیں ہندوستانی ڈاکٹرس پر پورا اعتماد تھا اور اس طرح وہ موت کے منہ سے واپس آگئے ۔