میگی میں اِنسانی صحت کیلئے مضرت رساں اجزاء شامل

حکومت کی جانب سے امتناع کا امکان، دیگر پیاکڈ فوڈس کی بھی تحقیقات کی جائے گی
حیدرآباد ۔ 21۔ مئی (سیاست نیوز) حکومت کی جانب سے پیاک فوڈ (ڈبہ بند غذا) پر مکمل امتناع عائد کئے جانے کا امکان ہے۔ میگی (Maggi)میں مونو سوڈیم گلوٹامیٹ کی اضافی مقدار پائی جانے کے بعد حکومت دیگر اشیاء پر بھی تحقیق کا آغاز کرسکتی ہے۔ میگی میں اضافی مونوسوڈیم گلوٹامیٹ پائے جانے کے بعد جو اقدامات کئے جانے کا امکان ہے ، ان میں میگی پر مکمل امتناع عائد کئے جانے کی بھی توقع ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت کی جانب سے فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹانڈرڈ اتھاریٹی کی جانب سے میگی کے متعلق کی گئی تحقیق نے یہ ثابت کردیا ہے کہ میگی میں موجود اشیاء میں ایسی ممنوعہ اشیاء بھی شامل ہیں جن کا استعمال انسانی زندگی کیلئے نقصان کا باعث ہے۔ اسی طرح ان خدشات کا بھی اظہار کیا جانے لگا ہے کہ میگی کی طرح اندرون دو منٹ یا فوری طور پر تیار کرتے ہوئے استعمال کرنے کی غذائیں بھی اسی طرح نقصان دہ کیمیکل سے تیار کی جاتی ہیں۔ اترپردیش میں میگی پر ہوئی تحقیق کے بعد اس کے اثرات ملک بھر میں مرتب ہوسکتے ہیں اور ملک بھر کے مختلف پیاک اشیائے خورد و نوش تیار کرنے والی کمپنیوں کو بھی مشکل حالات کا سامناکرنا پڑسکتاہے۔ ماہرین تغذیہ کے بموجب ڈبہ بند یا پیاکٹ میں ملنے والی اشیائے خورد و نوش کو طویل عرصہ تک بہتر رکھنے کیلئے ایسی ادویات و کیمیکلس کا استعمال کیا جاتاہے جو کہ انسانی جانوں کیلئے نقصان دہ ہوتا ہے۔ اسی میں سوڈیم گلوٹامیٹ کا بھی شمار ہوتا ہے جسے ماہرین ایم ایس جی کہتے ہیں۔ میگی تیار کرنے والی کمپنی نیسلے کی جانب سے یہ ادعاء کیا جاتا رہا تھا کہ میگی میں ایم ایس جے موجود نہیں ہے لیکن تحقیق کے بعد یہ ثابت ہوچکا ہے کہ کمپنی کا دعویٰ جھوٹا تھا اور جتنی مقدار میں ایم ایس جے کے استعمال کی اجازت ہے ، اس سے 15.2 پی پی ایم تک اضافی مقدار استعمال کی جارہی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ ایم ایس جے کا استعمال 2.5 پی پی ایم تک اشیاء کے مطابق قابل اجازت ہے جبکہ میگی کی جانب سے 17.2 پی پی ایم ایم ایس جے استعمال کیا جارہا تھا۔ بچوں کیلئے اس کا استعمال انتہائی سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔