میڈی پلی میں درجنوں غیر مسلمہ اسکولس ، طلبہ کا مستقبل خطرے میں

حیدرآباد ۔ 19 ۔ جون : ( سیاست نیوز) : مختار بی بی اور ان کے شوہر ( نام تبدیل ) کا بڑا بیٹا آئندہ برس ایس ایس سی کا امتحان لکھنے والا ہے اور اس کے اسکول انتظامیہ کی جانب سے یہ تسلی دی جارہی ہے کہ ان کا اسکول غیر مسلمہ ہوا تو کوئی فکر کی بات نہیں بلکہ وہ مسلمہ اسکول سے ان کے بیٹے کے لیے دسویں جماعت کے امتحان کی تمام تر سہولیات فراہم کرے گا ۔ مختار بی بی کی طرح سینکڑوں ایسے والدین ہیں جنہیں یہ فکر کھائے جارہی ہے کہ ان کی ہونہار اولادوں کا مستقبل کیا ہوگا کیوں کہ میڑچل ملکاجگری منڈل کے علاقے میڈی پلی میں 40 سے زائد ایسے اسکول ہیں جو کہ متعلقہ بورڈ سے مسلمہ نہیں ہیں اس علاقے میں درجنوں ایسے اسکولس ہیں جو نہ صرف غیر مسلمہ ہی نہیں بلکہ اسکولس کی جانب سے بھاری فیس کی وصولی ، کتابوں ، کاپیوں ، یونیفارم ، اور اسٹیشنری کا سامان ان ہی کے پاس سے خریدنے کے لیے والدین کو مجبور کیا جارہا ہے ۔ خانگی اسکولوں کے غیر مسلمہ ہونے سے ہزاروں طالب علموں کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے ۔ کیوں کہ مذکورہ منڈل میں جہاں 91 اسکولس مسلمہ ہیں تو 42 غیر مسلمہ اسکولس ہیں ۔ مقامی عوام نے شکایت کی ہے کہ عہدیداروں نے غیر مسلمہ اسکولوں کو صرف وجہ بتاؤ نوٹسیں جاری کی ہیں جس کے بعد اس ضمن میں مزید کوئی کارروائی نہیں کی ہے ۔ دوسری جانب ایم ای او مسٹر نرسمہا ریڈی نے کہا ہے کہ حکام نے 3 اسکولوں کو مقفل کردیا ہے جب کہ سرکاری اور خانگی اسکولوں کو حکومت کی تجویز کردہ کتابوں کی فراہمی کا پابند بنایا گیا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر اسکولس دیگر کتابوں اور یونیفارم کو فروخت کرتا ہے تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی ۔ نرسمہا ریڈی نے مزید کہا کہ انہوں نے اسکولوں کو انتباہ دیا ہے کہ وہ والدین پر اسکول کی جانب سے پرنٹ کردہ کتابیں خریدنے پر دباؤ نہیں ڈال سکتے ۔ علاوہ ازیں انہوں نے غیر مجاز اسکولوں کی فہرست بھی ظاہر کی ہے ۔۔