میڈیا ، دشمنان اسلام کے پروپگنڈہ کا موثر جواب دینے کا بہترین ذریعہ

نمائندہ خصوصی
حیدرآباد ۔ 15 ۔ اکٹوبر : میڈیا میں نوجوان نسل کے لیے کافی مواقع ہیں خاص طور پر مسلم لڑکے اور لڑکیاں اس مقدس پیشے کو جہاں اپنی ملازمت کا ذریعہ بنا سکتے ہیں وہیں اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں دشمنان اسلام کی جانب سے پھیلائی جارہی غلط فہمیوں کو دور کرتے ہوئے ان کے پروپگنڈہ کا منہ توڑ جواب دے سکتے ہیں ۔ ہماری نوجوان نسل کو فی الوقت الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ساتھ سوشیل میڈیا پر بھر پور توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ ان خیالات کا اظہار ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں نے روزنامہ سیاست کے زیر اہتمام چلائے جارہے مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کے ڈپلوما ان جرنلزم و کمیونیکیشن کورس کے طلباء وطالبات سے ملاقات کے دوران کیا ۔ جناب زاہد علی خاں نے ان طلباء و طالبات کو بتایا کہ مسلمانوں کو شعبہ تعلیم میں آگے بڑھنے کی فکر کرنی چاہئے کیوں کہ تعلیم ایک ایسا ہتھیار ہے جس سے تباہی و بربادی نہیں آتی بلکہ ترقی و خوشحالی کی راہیں ہموار ہوتی ہیں ۔ نئے نئے امکانات و مواقع کے دروازے کھلتے ہیں ۔ مسلمان اگر تعلیم پر توجہ دیں تو سرکاری ملازمتوں میں ان کا تناسب بڑھے گا اور وہ زندگی کے ہر شعبہ میں مسابقت کے قابل ہوں گے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ تعلیم ایک ایسی نعمت ہے جس پر کسی کی اجارہ داری نہیں کوئی بھی کسی کو تعلیم حاصل کرنے سے نہیں روک سکتا

اور نہ ہی کوئی ظالم و جابر کسی سے تعلیم جیسی دولت کو چھین سکتا ہے ۔ آج اگر مسلم ماں باپ اپنے بچوں کو ڈاکٹرس یا انجینئرس بنانے کی بجائے آئی اے ایس ، آئی پی ایس ، آئی ایف ایس ، آئی آر ایس وغیرہ بنانے کی تیاریاں کریں تو ہندوستانی مسلمانوں میں ایک صحت مند انقلاب برپا ہوسکتا ہے ۔ جہاں تک میڈیا کا سوال ہے یقینا یہ ایک مقدس اور معزز پیشہ ہے جہاں صحافیوں کی سوچ و فکر ان کی تحریریں عوام کی ذہن سازی میں اہم رول ادا کرتی ہیں ۔ لیکن موجودہ دور میں بیک وقت کئی زبانیں جاننے والے صحافیوں کی قدر ہے ایسے میں شعبہ صحافت سے وابستہ ہونے والے نوجوانوں کو چاہئے کہ اردو کے ساتھ ساتھ انگریزی ، تلگو اور ہندی زبانوں میں بھی مہارت حاصل کریں ۔ ان زبانوں پر مہارت حاصل کرنا مشکل کبھی نہیں اس کے لیے صرف محنت اور شوق کی ضرورت ہے ۔ جناب زاہد علی خاں نے صحافت کے طلبہ کو اس ملاقات میں مفید مشورے بھی دئیے ۔

ڈپلوما ان جرنلزم کے طلبہ نے منیجنگ ایڈیٹر سیاست جناب ظہیر الدین علی خاں سے بھی ملاقات کی ۔ انہوں نے طلبہ کوجہاں سوشیل میڈیا ، ڈیجٹیل میڈیا پر توجہ دینے کا مشورہ دیا وہیں بتایا کہ اس میڈیا نے قابل نوجوانوں کے لیے ترقی کی راہیں کھولدی ہیں ۔ طلباء وطالبات آن لائن مضامین اور ڈیجیٹل میڈیا کے اشتہارات کے ذریعہ آمدنی کے ذرائع پیدا کرسکتے ہیں ۔ جناب ظہیر الدین علی خاں نے طلباء سے یہ بھی کہا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ۔ انہیں صرف تعلیم اور تجارت پر توجہ دیتے ہوئے محنت و جستجو کا دامن ہرگز نہیں چھوڑنا چاہئے ۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ دنیا کے ہر ملک میں سیاست بڑی دلچسپی سے پڑھا جاتا ہے اور اس کی ایک ایک خبر کو اکثر ایک تا دیڑھ لاکھ افراد پڑھتے اور دیکھتے ہیں ۔ اس طرح اس کے ہٹس کی تعداد لاکھوں میں پہنچ گئی ہے ۔ نیوز ایڈیٹر سیاست جناب عامر علی خاں سے بھی طلباء وطالبات نے ملاقات کی ۔

انہوں نے طلبہ کو بتایا کہ تلنگانہ میں حکومت مسلمانوں کی بہبود کے لیے اقدامات کررہی ہے اور عین ممکن ہے کہ عنقریب کئی سرکاری عہدوں پر تقررات عمل میں آئیں گے اور ان بھرتیوں کے دوران مسلمانوں کو بھی بہتر انداز میں نمائندگی دئیے جانے کا امکان ہے ۔ جناب عامر علی خاں نے پر زور انداز میں یہ بھی بتایا کہ مسلم نوجوان سرکاری ملازمتوں میں دلچسپی نہیں رکھتے اگر وہ اس جانب توجہ دینے لگیں تو سرکاری محکموں میں مسلمانوں کی نمائندگی کا تناسب بڑھے گا ۔ جناب عامر علی خاں نے طلبہ کو تخلیقی صلاحیتیں پروان چڑھانے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ آج کے دور میں آپ کے کام کی اسی وقت لوگ پذیرائی کریں گے اگر وہ منفرد اور جداگانہ ہوگا ۔ طلبہ کے دورہ سیاست کے موقع پر کورس کوآرڈینٹر محمد ریاض احمد اور زاہد فاروقی مینجر دکن ریڈیو بھی موجود تھے ، دونوں نے طلباء وطالبات کو اخبار کے مختلف شعبہ جات کا معائنہ کرایا ۔۔