اُردو ندارد، حیدرآباد کے عظیم پراجکٹ میں اُردو والوں کے ساتھ سوتیلا سلوک
حیدرآباد 19 مارچ (سیاست نیوز) حیدرآباد میٹرو ریل کے تعمیراتی کاموں کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ شہر حیدرآباد میں جاری یہ پراجکٹ حیدرآباد کی ترقی کا سنگ میل ثابت ہوگا لیکن اس پراجکٹ میں اُردو کو نظرانداز کرنے کی کوششوں کو روکنا بے انتہا ضروری ہے۔ چونکہ عہدیدار اُردو زبان کو عصری ٹیکنالوجی سے دور تصور کرتے ہوئے ٹیکنالوجی میں آگے بڑھتے جارہے ہیں جبکہ یہ حقیقت نہیں ہے۔ بلکہ اُردو ٹیکنالوجی کے اعتبار سے کافی حد تک آگے بڑھ چکی ہے۔ ریاست تلنگانہ میں اُردو کو دوسری سرکاری زبان کا موقف حاصل ہے اور حیدرآباد میٹرو ریل تلنگانہ کا ایک عظیم پراجکٹ ہے جوکہ شہر کی ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ حیدرآباد میٹرو ریل نے میٹرو ریل اسٹیشن پر ٹکٹ کے لئے اے ٹی ایم مشین کے طرز کے مشین نصب کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس فیصلہ کے اعتبار سے شہر میں ہر میٹرو ریل اسٹیشن پر مشینیں نصب کی جائیں گی جہاں سے مسافرین بغیر قطار میں ٹھہرے اپنے اسمارٹ کارڈ یا اے ٹی ایم کارڈ کے ذریعہ میٹرو ریل میں سفر کا ٹکٹ حاصل کرسکیں گے لیکن اس مشین میں صرف دو زبانیں ہوں گی جن میں تلگو اور انگریزی کو رکھا گیا ہے جبکہ حیدرآباد میں اُردو زبان جاننے والوں کی تعداد ملک کے دیگر شہروں میں موجود تعداد سے کافی زیادہ ہے۔ اس کے باوجود حیدرآباد میٹرو ریل عہدیداروں کی جانب سے دونوں شہروں کے اس پراجکٹ میں ٹکٹ مشین پر دو زبانوں کے استعمال کا فیصلہ درست نہیں ہے۔ حیدرآباد میٹرو ریل لمیٹیڈ اور ایل اینڈ ٹی عہدیداروں کے بموجب انھیں اس بات کا یقین ہے کہ ٹکٹ کاؤنٹر سے زیادہ بلکہ 70% مسافرین ٹکٹ وینڈنگ مشین کا استعمال کریں گے اور اس مشین کے ذریعہ ہی ٹکٹ کا حصول ان کی ترجیح ہوگا۔ جب عہدیدار اس بات کا اندازہ رکھتے ہیں تو انھیں چاہئے کہ وہ اس دو لسانی مشین کو سہ لسانی مشین بنانے کے اقدامات کریں تاکہ ریاست کی دوسری سرکاری زبان کو اس کا مستحقہ مقام دیا جاسکے۔ اُردو زبان کے ساتھ سرکاری طور پر سلوک میں بہتری کے ذریعہ ہی اُردو زبان کے فروغ کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ اُردو زبان میں اے ٹی ایم کے طرز کی مشین نہیں ہیں چونکہ کئی ملٹی نیشنل بینکوں کی جانب سے شمالی ہند میں نصب کردہ اے ٹی ایم مشین میں اُردو زبان کو بھی شامل رکھا گیا ہے جوکہ زبان کے فروغ کے لئے بے انتہا معاون ثابت ہورہا ہے۔ اسی لئے حیدرآباد میٹرو ریل بالخصوص حکومت کو چاہئے کہ وہ شہر کے میٹرو اسٹیشن پر نصب کئے جانے والے ٹکٹ وینڈنگ مشین میں اُردو زبان کو بھی شامل کریں اور ایسا کرنا کوئی دشوار کن عمل نہیں ہے بلکہ اگر حیدرآباد میٹرو ریل اُردو کے لئے ایک علیحدہ سافٹ ویر تیار کرتے ہوئے اس مشین میں شامل کرواتی ہے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ ریاست تلنگانہ میں اُردو کو مستحقہ مقام حاصل ہورہا ہے۔ ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے بموجب میٹرو اسٹیشن پر ٹکٹ وینڈنگ مشینوں کی تنصیب کے منصوبہ کو تقریباً قطعیت دے دی گئی ہے اور اس منصوبہ کو قابل عمل بنانے کے لئے انگریزی و تلگو زبان کا انتخاب بھی کرلیا گیا ہے لیکن اگر اب بھی حکومت اس معاملہ میں مداخلت کرتے ہوئے حیدرآباد میٹرو ریل کو ان مشینوں میں اُردو زبان کے استعمال کا پابند بنانے کے اقدامات کرتی ہے تو حکومت تلنگانہ کی اُردو زبان کے متعلق سنجیدگی ظاہر ہوگی اور شہریان تلنگانہ بالخصوص حیدرآباد و تلنگانہ کے اُردو داں طبقہ کا حکومت پر اعتماد بڑھے گا۔