حیدرآباد۔/16جولائی، ( سیاست ڈاٹ کام ) مرکزی حکومت نے آج حکومت تلنگانہ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ حیدرآباد میٹرو ریل پراجکٹ کے نقشہ میں تبدیلی کیلئے اصرار یا مداخلت نہ کرے۔ یہ ایسا اقدام ہے جو دراصل اس پراجکٹ پر عمل آوری کرنے والے عالمی ادارہ لارسن اینڈ ٹوبرو ( ایل اینڈ ٹی ) کی طرف سے ظاہر کردہ تشویش کے ازالہ کیلئے اُٹھایا گیا ہے۔ ٹی آر ایس لیڈر اور تلنگانہ کے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے گذشتہ ماہ اسمبلی میں اعلان کیا تھا کہ ایل اینڈ ٹی کو تاریخی ورثے کی حامل کلیدی عمارتوں کے قریب اپنی لائن تعمیر کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ چندر شیکھر راؤ نے چند کلیدی مقامات پر پراجکٹ کی تعمیر کی مخالفت کی تھی اور اس بات کے خواہاں تھے کہ پراجکٹ کو جاری رکھنے کیلئے متبادل راستے تلاش کئے جائیں
اور اگر ضروری ہو تو زیرِ زمین لائن بچھائی جائے۔ لیکن ایل اینڈ ٹی چونکہ پہلے ہی تاخیر کے سبب 16,000کروڑ روپئے کے اس پراجکٹ پر کافی وقت اور سرمایہ کا نقصان اُٹھا چکی ہے اب مزید نقصان برداشت کرنا نہیں چاہتی۔ متضاد موقف کے سبب سارا پراجکٹ تعطل کے دہانہ کا شکار بھی ہوسکتا ہے۔ سمجھا جاتا ہے کہ ہندوستان کی جدید ترین ریاست کو مرکز کا یہ مشورہ غالباً آندھرا پردیش سے وابستہ بااثر بزنس مین اور اے پی کے چیف منسٹر چندرا بابو نائیڈو کی اپیلوں کے تناظر میں دیا گیا ہے۔ مسٹر نائیڈو نے مرکز سے اپیل کی تھی کہ حیدرآباد اور اس کے اطراف و اکناف آندھرا پردیش کے تاجرین، صنعت کاروں اور سرمایہ کاروں کے مفادات کا تحفظ کیا جائے۔ حیدرآباد میں ہندوستان کے کئی سرکردہ انفراسٹرکچر ادارے موجود ہیں جو ملک میں توانائی، روڈ،ایرپورٹ اور آبپاشی پراجکٹوں کا مجموعی طور پر تقریباً ایک تہائی حصہ تعمیر کرچکے ہیں۔ مرکزی حکومت نے اس مسئلہ پر بات چیت کیلئے تلنگانہ کے اعلیٰ افسران اور حیدرآباد میٹرو ریل کے عہدیداروں کو 25جولائی کو ایک اجلاس میں شرکت کیلئے دہلی طلب کیا ہے۔
اجلاس کا اصل موضوع میٹرو ریل پراجکٹ کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو ختم کرنے کے سوال پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔ حکومت تلنگانہ جو پہلے ہی پانی کی تقسیم، توانائی اور امن و قانون جیسے مسائل پر مرکز اور آندھرا پردیش کے ساتھ مختلف تنازعات و اختلافات کا سامنا کررہی ہے، مرکز کے تازہ ترین اقدام کو ریاستی حکومت کے اختیارات میں مداخلت کی ایک نئی کوشش سے تعبیر کرسکتی ہے۔ لوک سبھا میں ٹی آر ایس کے ڈپٹی فلور لیڈر بی ونود کمار نے کہا کہ مرکز کو اگرچہ مشورے دینے کا اختیار ضرور ہے لیکن وہ میٹرو ریل کے راستوں جیسے نازک مسائل پر ریاستی حکومت کو ہدایات نہیں دے سکتی کیونکہ یہ ریاستی حکومت کا اختیار تمیزی ہے کہ وہ مفاد عامہ کو ملحوظ رکھتے ہوئے کسی بھی پراجکٹ میں کسی بھی تبدیلی کی ہدایت کرسکتی ہے۔