بعد مشاورت راستوں میں تبدیلی پر فیصلہ ، چیف منسٹر کے سی آر کا بیان
حیدرآباد۔/27نومبر، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھرراؤ نے میٹرو ریل پراجکٹ کے ڈیزائن میں تبدیلی کا جائزہ لینے کیلئے بہت جلد کُل جماعتی اجلاس طلب کرنے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں سے مشاورت کے بعد ہی میٹرو ریل کے راستوں میں تبدیلی کا قطعی فیصلہ کیا جائے گا۔ میٹرو ریل پراجکٹ کے مسئلہ پر آج اسمبلی میں بی جے پی اور تلگودیشم ارکان نے حکومت کے رویہ پر تنقید کرتے ہوئے ایوان کی کارروائی کو روک دیا۔ حکومت کی جانب سے میٹرو ریل کے راستہ میں تبدیلی کے سلسلہ میں صرف ایک سیاسی جماعت سے مشاورت کا الزام عائد کرتے ہوئے بی جے پی نے تحریک التواء پیش کی تھی۔ تلگودیشم ارکان نے بی جے پی موقف کی تائید کی اور ایوان کی کارروائی کو روک دیا۔ اس مسئلہ پر ہنگامہ آرائی اور شور وغل کے دوران اسمبلی کی کارروائی دو مرتبہ ملتوی کرنی پڑی۔ اسپیکر مدھوسدن چاری کی جانب سے ایوان میں نظم کی بحالی کی اپیلوں کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو آخر کار مداخلت کرنی پڑی اور انہوں نے شہر کے ایک رکن اسمبلی کے ساتھ میٹرو ریل عہدیداروں کا اجلاس طلب کرنے کی تردید کی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ وہ گرین لینڈس تا جوبلی ہلز روٹ پر میٹرو ریل کے کام کے سلسلہ میں عدالت کے حکم التواء کے مسئلہ پر عہدیداروں سے بات چیت کررہے تھے، اسی دوران مذکورہ رکن اسمبلی کسی اور کام کے سلسلہ میں وہاں پہنچ گئے۔ انہیں حکومت نے اجلاس میں مدعو نہیں کیا تھا۔ چیف منسٹر نے وضاحت کی کہ رکن اسمبلی کی جانب سے کسی اور موضوع پر کی گئی نمائندگی کے وقت لی گئی تصویر اخبارات میں شائع ہوئی ہے جس سے غلط فہمی پیدا ہوئی۔ چیف منسٹر نے کہا کہ میٹرو ریل پراجکٹ کے راستہ میں تبدیلی کے سلسلہ میں حکومت کے پاس تین تجاویز ہیں۔ اسمبلی کے روبرو واقع شہیدان تلنگانہ یادگار کے تحفظ اور اسمبلی کی ہیرٹیج بلڈنگ کو بچانے کیلئے میٹرو لائن اسمبلی کے عقبی حصہ سے گذارنے کی تجویز زیر غور ہے۔ اس کے علاوہ سلطان بازار سے بڑی چاوڑی کی جانب موڑنے پر غور کیا جارہا ہے۔ چندر شیکھرراؤ نے کہا کہ پرانے شہر میں ہندو، مسلم اور عیسائی عبادت گاہوں کو بچانے کیلئے میٹرو ریل کے راستہ میں تبدیلی پر بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان تینوں تبدیلیوں کے بارے میں ابھی تک کوئی قطعی فیصلہ نہیں کیا گیا اور یہ ابھی جائزہ کے مرحلہ میں ہے۔ انہوں نے احتجاجی بی جے پی اور تلگودیشم ارکان کو یقین دلایا کہ اسمبلی اجلاس کے فوری بعد کُل جماعتی اجلاس طلب کرتے ہوئے مشترکہ طور پر کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ میٹرو ریل کے دوسرے مرحلہ کے آغاز کے سلسلہ میں بھی حکومت کو فیصلہ کرنا باقی ہے۔ انہوں نے اطلاع دی کہ گرین لینڈز تا جوبلی ہلز روٹ کے بارے میں حکم التواء کو ہائی کورٹ نے آج ختم کردیا ہے۔ اس طرح اس روٹ پر کام کے آغاز کی راہ ہموار ہوگئی۔ بی جے پی فلور لیڈر ڈاکٹر لکشمن نے کہا کہ میٹرو ریل کے راستہ میں تبدیلی کے سلسلہ میں ایک رکن اسمبلی سے عہدیداروں کے ساتھ چیف منسٹر کی مشاورت کے بارے میں اخبارات میں خبریں شائع ہوئی ہیں۔ اس اہم مسئلہ پر شہر سے تعلق رکھنے والے دیگر ارکان اسمبلی سے بھی مشاورت کی جانی چاہیئے تھی۔ چیف منسٹر نے دوبارہ وضاحت کی کہ مذکورہ رکن اسمبلی اتفاق سے میٹنگ کے موقع پر پہنچ گئے تھے۔ چیف منسٹر نے شہر کے ارکان اسمبلی کے علاوہ تمام سیاسی جماعتوں کو اجلاس میں مدعو کرنے کا تیقن دیا ہے۔ قبل ازیں صبح جیسے ہی اسمبلی کی کارروائی شروع ہوئی بی جے پی ارکان نے پلے کارڈس کے ساتھ احتجاج شروع کردیا۔ وہ ’’ ہمیں انصاف چاہیئے ‘‘ کا نعرہ لگارہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک مخصوص سیاسی جماعت کے ساتھ میٹرو ریل جیسے اہم مسئلہ پر مشاورت کے ذریعہ حکومت نے دوسری جماعتوں کو نظرانداز کیا ہے۔ وزیر اُمور مقننہ ہریش راؤ نے احتجاجی ارکان کو مشورہ دیا کہ وہ وقفہ سوالات کے بعد اس مسئلہ کو خصوصی تذکرہ کے تحت پیش کریں۔ وزیر داخلہ این نرسمہا ریڈی نے الزام عائد کیا کہ آئی ایم جی بھارتا کو اراضی کے الاٹمنٹ پر مباحث روکنے کیلئے بی جے پی اور تلگودیشم مشترکہ طور پر ڈرامہ بازی کررہے ہیں۔ شور وغل کے دوران اسپیکر نے ایوان کی کارروائی 10منٹ کیلئے ملتوی کردی۔ نصف گھنٹہ بعد جب اجلاس کا دوبارہ آغاز ہوا تو ایوان میں گڑبڑ جاری رہی جس پر اسپیکر نے اجلاس کو دوسری مرتبہ دس منٹ کیلئے ملتوی کیا۔