حیدرآباد ۔ 8 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : امیر پیٹ تا ایل بی نگر حیدرآباد میٹرو ریل خدمات کا آغاز ہوئے تقریبا 2 مہینے کا عرصے ہونے کو ہے لیکن اس راستے پر ہنوز کئی ایسے اسٹیشنس ہیں جہاں تعمیری کام جاری ہیں جس سے عوام کو پریشانی ہورہی ہے ۔ تعمیری کاموں کے جلد از جلد مکمل نہ ہونے کی وجہ سے ریلوے اسٹیشن پہونچنے والے مسافرین کو مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے ۔ بسا اوقات زخمی ہونے کے خدشات بھی بڑھ رہے ہیں کیوں کہ راستوں میں تعمیری اشیاء اور دیگر ساز و سامان پڑا ہوا ہے جیسا کہ املی بن بس اسٹیشن کے اصل داخلے کے راستے میں فٹ پاتھ پر بچھائے جانے والے پتھر اور دیگر ساز و سامان پڑا ہوا ہے جب کہ ملک پیٹ ، دلسکھ نگر اور ایل بی نگر کے ریلوے اسٹیشن کا بھی یہی حال ہے ۔ امیر پیٹ تا ایل بی نگر کا فاصلہ 17 کلومیٹرس کا ہے جس میں 16 ریلوے اسٹیشنس ہیں علاوہ ازیں ایل بی نگر تا میاں پور کے راستے کے درمیان روزانہ 21 ٹرینیں 284 چکر لگاتی ہیں ۔ امیر پیٹ تا ناگول راستے کے درمیان 12 ٹرینیں 266 چکر لگاتی ہیں لہذا مجموعی طور پر ان راستوں پر 266 ٹرینوں کے 550 چکر لگتے ہیں اور ان تمام اسٹیشنوں میں ایل بی نگر کے اسٹیشن پر سب سے زیادہ ہجوم ہوتا ہے ۔ جب کہ امیر پیٹ انٹرچینج اسٹیشن پر روزانہ تقریبا 30,000 ( داخل اور خروج ) مسافرین کی آمد و رفت ہوتی ہے ۔ ان تمام تفصیلات کو فراہم کرنے کی اصل وجہ یہ ہے کہ اتنے پر ہجوم عوامی حمل و نقل کے لیے اسٹیشنوں پر تعمیری کاموں میں سست روی کی وجہ سے عوام کو مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جب کہ دفتری اوقات میں جب عوام جلدی میں ہوتے ہیں تو زیر تعمیر اسٹیشن پر ان کے زخمی ہونے کے خدشات بڑھ رہے ہیں ۔ ایل بی نگر اسٹیشن پر میڈیا نمائندے سے اظہار خیال کرتے ہوئے طالب علم شیخ عبدالوحید نے کہا کہ صبح کے اوقات یہاں عوام کی کثیر تعداد میٹرو ریل میں سوار ہونے کی جلدی میں ہوتی ہے اور وہ تعمیری سامان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ( یہ دیکھو ) اس سامان کی وجہ سے یہاں کوئی بھی کبھی بھی زخمی ہوسکتا ہے ۔ یاد رہے کہ حیدرآباد میٹرو ریل لمٹیڈ کے ایم ڈی این وی ایس ریڈی نے کہا ہے کہ میٹرو ریل اسٹیشنوں کو خوبصورت بنانے کے لیے تقریبا 2 کروڑ روپئے صرف کئے جارہے ہیں اور امید ہے کہ آئندہ چند ہفتوں کے دوران اسٹیشنوں کے پاس کے تعمیری کام مکمل کرلیے جائیں گے ۔۔